نزیومر پروٹیکشن کورٹ کراچی جنوبی نے ٹرین کی مقررہ وقت سے تاخیر کے معاملے پر پاکستان ریلوے کو شہری کو 50 ہزار روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت میں دائر درخواست کے مطابق شہری نے سال 2025 میں گھوٹکی سے کراچی سفر کے لیے خیبر میل کا ٹکٹ حاصل کیا تھا۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ٹکٹ پر درج شیڈول کے مطابق ٹرین کو شام 6 بج کر 40 منٹ پر گھوٹکی سے روانہ ہونا تھا، تاہم ٹرین مقررہ وقت پر روانہ نہ ہوسکی۔
شہری کے مطابق خیبر میل تقریباً ساڑھے تین گھنٹے کی تاخیر کے بعد رات 10 بج کر 11 منٹ پر گھوٹکی سے کراچی کے لیے روانہ ہوئی۔ ٹرین کے روانگی میں ہونے والی اس تاخیر کا براہ راست اثر سفر کے اختتامی وقت پر بھی پڑا اور ٹرین مقررہ صبح 6 بج کر 40 منٹ کے بجائے صبح 10 بج کر 45 منٹ پر کراچی پہنچی۔
درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ ٹرین کے مقررہ وقت پر منزل پر نہ پہنچنے کے باعث اس کے پہلے سے طے شدہ اہم معاملات متاثر ہوئے۔ شہری کا مؤقف تھا کہ پاکستان ریلوے کی جانب سے مقررہ نظام الاوقات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے اسے مشکلات اور نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
مقدمے کی سماعت کے بعد کنزیومر پروٹیکشن کورٹ کراچی جنوبی نے شہری کے مؤقف کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان ریلوے کو ہرجانے کی رقم ادا کرنے کا حکم جاری کردیا۔
عدالت کے فیصلے کے مطابق پاکستان ریلوے کو متاثرہ شہری کو 50 ہزار روپے بطور ہرجانہ ادا کرنا ہوگا۔ فیصلے کو صارفین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ عوام سفری سہولیات کے لیے ریلوے کے مقررہ اوقات اور نظام الاوقات پر انحصار کرتے ہیں۔