بلوچستان حکومت نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں شہریوں کو جدید، تیز رفتار اور باقاعدہ پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کے لیے بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس پر ابتدائی تخمینے کے مطابق 300 ارب روپے سے زائد لاگت آنے کا امکان ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کے حکام کے مطابق کوئٹہ میں جدید بی آر ٹی نظام کے قیام کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے اور منصوبے کی فیزبیلٹی اسٹڈی کی تیاری کے لیے پانچ غیر ملکی کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ان کمپنیوں میں سے ایک فرم کا انتخاب کیا جائے گا جو منصوبے کی تفصیلی فیزبیلٹی اسٹڈی تیار کرے گی۔
حکام کے مطابق فیزبیلٹی اسٹڈی میں منصوبے کے مختلف تکنیکی، مالی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ کوئٹہ شہر میں بی آر ٹی کے ممکنہ روٹس، مسافروں کی ضروریات، بسوں کی تعداد، اسٹیشنز، کوریڈورز اور دیگر بنیادی ڈھانچے سے متعلق امور بھی زیر غور آئیں گے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق منتخب غیر ملکی کمپنی کی جانب سے فیزبیلٹی رپورٹ مکمل ہونے کے بعد منصوبے پر عملی کام شروع کرنے سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ ابتدائی اندازے کے مطابق کوئٹہ بی آر ٹی منصوبہ 2032 تک مکمل کیے جانے کا امکان ہے۔
منصوبے کی لاگت 300 ارب روپے سے زائد متوقع
حکام نے بتایا کہ کوئٹہ بی آر ٹی منصوبے کی مجموعی لاگت کا ابتدائی تخمینہ 300 ارب روپے سے زائد لگایا گیا ہے۔ تاہم منصوبے کی حتمی لاگت فیزبیلٹی اسٹڈی، تفصیلی ڈیزائن، روٹس کے تعین، زمین اور انفراسٹرکچر کی ضروریات سمیت دیگر تکنیکی اور مالی عوامل کا جائزہ لینے کے بعد سامنے آئے گی۔
اتنے بڑے منصوبے کے لیے مالی وسائل کا بندوبست بھی اہم مرحلہ ہوگا، جس میں صوبائی حکومت کے علاوہ وفاقی حکومت اور ممکنہ طور پر بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کا کردار بھی سامنے آ سکتا ہے۔
ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی معاونت بھی حاصل
کوئٹہ میں بی آر ٹی منصوبے کی تیاری کے سلسلے میں پہلے ہی بین الاقوامی سطح پر پیش رفت ہو چکی ہے۔ پاکستان اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے دسمبر 2025 میں کوئٹہ بی آر ٹی کے لیے 3.8 ملین امریکی ڈالر کی Project Readiness Financing پر دستخط کیے تھے۔
ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے مطابق اس معاونت کا مقصد کوئٹہ کے لیے پائیدار بس ریپڈ ٹرانزٹ نیٹ ورک کی تیاری، تفصیلی ڈیزائن اور مستقبل میں خریداری کے عمل کے لیے معاونت فراہم کرنا ہے۔ منصوبے کی عملدرآمدی ایجنسی بلوچستان حکومت کا محکمہ ٹرانسپورٹ ہے۔
شہریوں کو جدید سفری سہولت ملنے کی توقع
کوئٹہ میں آبادی اور شہری سرگرمیوں میں اضافے کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ کا مؤثر نظام ایک اہم ضرورت بن چکا ہے۔ مجوزہ بی آر ٹی منصوبے کا مقصد شہریوں کو نسبتاً تیز، منظم اور قابل اعتماد سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔
بی آر ٹی نظام میں عام طور پر مخصوص یا ترجیحی بس کوریڈورز، جدید اسٹیشنز، بہتر ٹکٹنگ نظام اور بسوں کی باقاعدہ آمدورفت شامل ہوتی ہے۔ اس نوعیت کا نظام شہریوں کے لیے سفر کے وقت میں کمی اور پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال میں اضافے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
کوئٹہ میں منصوبے کے حتمی روٹس اور اسٹیشنز کا تعین فیزبیلٹی اسٹڈی کے بعد کیے جانے کی توقع ہے، اس لیے اس مرحلے پر کسی مخصوص روٹ یا اسٹیشن کی حتمی نشاندہی سامنے نہیں آئی۔
فیزبیلٹی اسٹڈی کے بعد اگلا مرحلہ
حکام کے مطابق پانچ غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے دلچسپی ظاہر کیے جانے کے بعد اگلا مرحلہ مناسب کمپنی کا انتخاب ہے۔ منتخب کمپنی منصوبے کی فیزبیلٹی اسٹڈی مکمل کرے گی، جس کے بعد حکومت کو منصوبے کی تکنیکی اور مالی قابلِ عمل ہونے سے متعلق سفارشات موصول ہوں گی۔
اس رپورٹ کی بنیاد پر منصوبے کے دائرہ کار، لاگت، تعمیراتی مراحل، مالیاتی ماڈل اور عملدرآمد کے شیڈول کو حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔
حکام کے مطابق کوئٹہ بی آر ٹی منصوبے کی تکمیل کا ابتدائی ہدف 2032 رکھا گیا ہے۔ تاہم منصوبے کی موجودہ حیثیت کو دیکھتے ہوئے اس وقت اسے عملی تعمیر کے بجائے تیاری اور فیزبیلٹی کے مرحلے میں سمجھا جا رہا ہے۔
فیزبیلٹی اسٹڈی، تفصیلی ڈیزائن، منظوریوں، مالی وسائل کے انتظام، ٹینڈرنگ اور تعمیراتی مراحل کی تکمیل کے بعد ہی منصوبے کی حتمی ٹائم لائن واضح ہو سکے گی۔
کوئٹہ بی آر ٹی منصوبہ مکمل ہونے کی صورت میں بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کے شہری ٹرانسپورٹ نظام میں بڑی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم منصوبے کی کامیابی کا انحصار بروقت فنڈنگ، شفاف منصوبہ بندی، مناسب روٹس کے انتخاب، تعمیراتی معیار اور مؤثر آپریشنل نظام پر ہوگا۔