پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے نئے کرائے مقرر،نوٹیفکیشن جاری

پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے نئے کرائے مقرر،نوٹیفکیشن جاری

ڈیزل کی قیمت میں مسلسل اضافے کے بعد پشاور میں مسافر گاڑیوں کے کرایوں میں نظرثانی کر دی گئی ہے، جبکہ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے مختلف روٹس کے لیے نئے کرایوں کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے باعث پشاور میں مختلف روٹس پر چلنے والی مسافر گاڑیوں کے نئے کرائے مقرر کیے گئے ہیں، حکام کے مطابق نظرثانی شدہ کرایوں کا اطلاق 12 اگست سے کر دیا گیا ہے۔

نئے کرایوں کا نوٹیفکیشن

ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں مختلف روٹس پر مسافر گاڑیوں کے لیے نئے کرایے مقرر کیے گئے ہیں، نئے کرایہ نامے کو ڈیزل کی قیمت میں ہونے والے اضافے کے تناظر میں مرتب کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق ایندھن کی قیمت میں مسلسل اضافے کے باعث ٹرانسپورٹرز کے اخراجات میں اضافہ ہوا، جس کے بعد مسافر گاڑیوں کے کرایوں پر نظرثانی کی ضرورت پیش آئی۔

یہ بھی پڑھیں :گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال شروع، کراچی بندرگاہ اور پورٹ قاسم سے لوڈنگ بند

12 اگست سے اطلاق

ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے مطابق نظرثانی شدہ کرایوں کا اطلاق 12 اگست سے ہو چکا ہے، اس کے بعد مختلف روٹس پر چلنے والی مسافر گاڑیوں میں سفر کرنے والے شہریوں سے نئے مقرر کردہ کرایوں کے مطابق رقم وصول کی جائے گی۔

مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سفر کے دوران مقررہ کرایے سے متعلق معلومات حاصل کریں اور غیرضروری اضافی رقم کی ادائیگی سے گریز کریں۔

زائد کرایہ لینے پر کارروائی

متعلقہ حکام نے ٹرانسپورٹرز کو سختی سے تنبیہ کی ہے کہ وہ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے مقرر کردہ کرایوں سے زائد رقم ہرگز وصول نہ کریں،حکام کے مطابق اگر کسی ٹرانسپورٹر کی جانب سے مقررہ کرائے سے زیادہ وصولی کی شکایت سامنے آئی تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

مسافروں کو ریلیف دینے کی ہدایت

حکام نے ٹرانسپورٹرز پر زور دیا ہے کہ نئے کرایہ نامے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور مسافروں سے مقررہ شرح کے مطابق ہی کرایہ وصول کیا جائےڈیزل کی قیمت میں اضافے کے باعث جہاں ٹرانسپورٹرز کے اخراجات بڑھے ہیں، وہیں نئے کرایوں کے نفاذ سے پشاور میں روزانہ سفر کرنے والے شہریوں کے سفری اخراجات میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ مقررہ کرایوں کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور شکایات کی صورت میں متعلقہ ٹرانسپورٹرز کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

editor

Related Articles