پاکستان کی معاشی حالت کو بہتر بنانے اور مقامی صنعتوں کو پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے انقلابی فیصلوں کی اشد ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تاجروں اور صنعت کاروں کے ایک اہم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے معاشی مستقبل، برآمدات میں اضافے اور نظام میں بنیادی تبدیلیوں کے حوالے سے اہم ترین نکات پیش کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معاشی پابندیوں کا شکار ممالک اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہیں تو پاکستان کے پاس بھی ترقی اور خودانحصاری کی تمام صلاحیتیں موجود ہیں۔
ایران کی مثال اور خودانحصاری کا سبق
لاہور چیمبر آف کامرس کے نئے منتخب نمائندوں کی تقریبِ حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے ہمسایہ ملک ایران کی مثال دی۔
یہ بھی پڑھیں :سائبر کرائم کرنیوالا چاہے کہیں بھی بیٹھا ہو، اسے قانون کی گرفت میں لانا ہے ، محسن نقوی
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران انہوں نے ایران کے متعدد دورے کیے جہاں انہوں نے دیکھا کہ شدید عالمی معاشی اور اقتصادی پابندیوں کے باوجود ایران نے نہ صرف اپنے پاؤں پر کھڑے ہونا سیکھا بلکہ ہر شعبے میں پیش رفت کی۔
ایران میں کنسٹرکشن سے لے کر آٹو انڈسٹری تک تمام بنیادی مصنوعات مقامی سطح پر تیار کی جاتی ہیں۔
وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ایران کی ترقی کا واحد راز ‘میڈ ان ایران’ کا تصور ہے اور پاکستان بھی اپنی درآمدات کو کم اور برآمدات کو بڑھا کر یہی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔
برآمدات میں اضافہ اور ‘میڈ ان پاکستان’ پالیسی
محسن نقوی نے تاجر برادری پر زور دیا کہ ہمیں امپورٹس پر انحصار ختم کر کے ‘میڈ ان پاکستان’ کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہونا ہوگا۔
ملکی معاشی استحکام کا واحد حل یہی ہے کہ ہم اپنی برآمدات (Exports) میں خاطر خواہ اضافہ کریں۔
جب تک مقامی صنعتوں کو تحفظ اور ترجیح نہیں دی جائے گی، تب تک ہم غیر ملکی قرضوں اور درآمدی بوجھ سے نجات حاصل نہیں کر سکتے۔
نظام کو ری سیٹ کرنے کا عزم
تقریب سے خطاب کے دوران انہوں نے اس بات پر شدید زور دیا کہ موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پورے نظام کو ری سیٹ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں :محسن نقوی اور ایرانی صدر کی ملاقات، پاکستان ایران تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق


