وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ پیش کرنے سے پہلے ہی پاکستان میں سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت ممکنہ طور پر 12ون کو 2024-25کا بجٹ پیش کرنے جارہی ہے جسے ممکنہ طور پر آئی ایم ایف کی تازہ شرائط کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے۔ بجٹ سے پہلے ہی فی واٹ کی قیمت میں 8 روپے اضافہ ہوچکا ہے جس کے بعد 180واٹ کا پینل تقریباََ 1440روپے تک مہنگا ہوچکا ہے جبکہ 588واٹ کا پینل 4 سے 5 ہزار روپے تک مہنگا ہوگیا ہے۔
مزید پڑھیں: آئندہ بجٹ میں پنشن پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویزختم
واضح رہے کہ وزیر مملکت برائے خزانہ و توانائی علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ بجٹ کو آئی ایم ایف فریم ورک میں رہتے ہوئے تیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا بجٹ 12جون کو پیش ہوگا۔ آئندہ ہفتے بجٹ پیش کرنے کی تیاری کی جاری ہے۔
کس سیکٹر پر کتنا ٹیکس لاگو ہورا؟ اس بارے بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس پر تبصرہ کرنا قبل ازوقت ہوتا تاہم بجٹ کو آئی ایم ایف فریم ورک میں رہتے ہوئے تیار کر رہے ہیں۔ بجٹ پر حتمی فیصلہ وزیراعظم ہی کریں گے۔وزیرمملکت نے مزید کہا کہ اسٹاک مارکیٹ میںبعض سٹے باز غلط افواہیں پھیلا رہے ہیں ۔ امید ہے مانیٹری پالیسی نرم ہوگی۔

