بلوچستان میں ’آپریشن شعبان‘ جاری، مجموعی طور پر ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے 123 دہشتگرد ہلاک

بلوچستان میں ’آپریشن شعبان‘ جاری، مجموعی طور پر ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے 123 دہشتگرد  ہلاک

پاکستان نے بلوچستان میں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بڑے پیمانے پر “آپریشن شعبان ” کا آغاز کر دیا ہے، جس میں پاک فوج، فرنٹیئر کور (ایف سی)، بلوچستان پولیس اور فضائی معاونت کے ذریعے مشترکہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ آپریشن کا مقصد دہشت گردوں کے نیٹ ورکس، محفوظ ٹھکانوں اور عسکری انفراسٹرکچر کا خاتمہ کرتے ہوئے صوبے میں ریاستی عملداری کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

رپورٹس کے مطابق آپریشن کا آغاز 7 جولائی کو منگی ڈیم کے علاقے میں ہونے والے حملے کے بعد کیا گیا، جس میں 27 پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن شروع ہونے کے بعد مختلف کارروائیوں میں اب تک تقریباً 123 عسکریت پسند ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

آپریشن کے دوران شمالی بلوچستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ جنوبی بلوچستان میں کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر علیحدگی پسند گروہوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نجی ایئر لائن کا شارجہ سے کراچی آنیوالا کارگو طیارہ لاپتہ،پاک فضائیہ و بحریہ کا سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن

حکام کے مطابق اس فوجی مہم کا مقصد دہشت گرد تنظیموں کی آپریشنل صلاحیت کو ختم کرنا، ان کے محفوظ مراکز کو تباہ کرنا اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں سیکیورٹی چیلنجز گزشتہ چند برسوں کے دوران مزید پیچیدہ ہوئے ہیں، جہاں عسکریت پسند گروہوں نے سیکیورٹی فورسز، اہم تنصیبات، بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آپریشن شعبان میں ہلاک دہشتگردوں کی تعداد 88 تک پہنچ گئی،متعدد ٹھکانے تباہ ، فیصلہ کن کارروائیاں جاری

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر فوجی کارروائیاں ضروری ہیں، تاہم بلوچستان میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے سیاسی مکالمے، مقامی آبادی کی شمولیت، ترقیاتی منصوبوں، ریاستی اداروں کی مضبوطی اور مفاہمتی اقدامات بھی ناگزیر تصور کیے جا رہے ہیں۔

Related Articles