ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان ہونے والا دفاعی معاہدہ ایران کے لیے خطرہ نہیں ہے۔
میڈیا کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے اسماعیل بقائی نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کی اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کو امریکا کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔انکا کہنا تھا کہ خطے میں عدم تحفظ کی بنیادی وجہ امریکی مداخلت ہے اور علاقائی ممالک کو اس حوالے سے محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی اہم بیان دیا، ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی تیسرے فریق کی مداخلت نہ ہو تو آبنائے ہرمز کو کھولا جا سکتا ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ عمان کے ساتھ ہونے والا معاہدہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کی ضمانت نہیں دیتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر عمان کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں امریکا شامل نہیں ہے۔
امریکا سے براہِ راست مذاکرات نہیں
ایرانی ترجمان نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان فی الحال براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے، تاہم ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو پیغامات بھیجے اور موصول کیے جا رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ جب تک عبوری معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں گی، امریکا کے ساتھ بات چیت نہیں کی جائے گی۔
دفاعی معاہدے پر ایرانی مؤقف
اسماعیل بقائی نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے کہا کہ ایران اسے اپنے لیے خطرہ نہیں سمجھتا،انہوں نے کہا کہ تہران علاقائی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو ایران کے خلاف اقدام کے طور پر نہیں دیکھتا اور موجودہ صورتحال میں اس معاہدے سے ایران کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔