کراچی کے احسن آباد میں ڈاکٹر عمر، اہلیہ اور 3 بیٹیوں کی لاشیں فلیٹ سے برآمد، تحقیقات جاری

کراچی کے احسن آباد میں ڈاکٹر عمر، اہلیہ اور 3 بیٹیوں کی لاشیں فلیٹ سے برآمد، تحقیقات جاری

کراچی کے علاقے احسن آباد میں لاکھانی فلیٹس سے ڈاکٹر عمر، ان کی اہلیہ اور تین کم عمر بیٹیوں سمیت ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی کئی روز پرانی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ پولیس نے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کردی ہیں جبکہ موت کی حتمی وجہ کیمیکل ایگزامینیشن کے نتائج کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔

پولیس کے مطابق اہل علاقہ نے فلیٹ سے شدید بدبو آنے پر مددگار 15 کو اطلاع دی، جس کے بعد پولیس موقع پر پہنچی۔ فلیٹ کا دروازہ اندر سے بند تھا جسے توڑ کر پولیس اندر داخل ہوئی۔ لاشوں کی شناخت ڈاکٹر عمر، ان کی اہلیہ اور ان کی تین بیٹیوں کے طور پر ہوئی۔ تینوں بچیوں کی عمریں 10 سال سے کم بتائی گئی ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :کراچی : آئل ٹینکر کی موٹرسائیکل کو ٹکر سے 2 بہنیں جاں بحق،بھائی زخمی

پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق لاشیں کئی روز پرانی تھیں۔ بعض رپورٹس میں پولیس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ لاشیں تقریباً چار سے پانچ روز پرانی ہوسکتی ہیں۔ فلیٹ کی تلاشی کے دوران ڈاکٹر عمر کا موبائل فون نہیں ملا جبکہ فلیٹ اندر سے بند ہونے سمیت دیگر شواہد کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ڈاکٹر عمر ایک نجی اسپتال سے وابستہ تھے۔ پولیس کے مطابق انہیں مبینہ طور پر گردے کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی اور انہوں نے 13 ستمبر کو اپنی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ پولیس ان کے مالی اور ذاتی حالات سمیت تمام ممکنہ پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔

پولیس نے ابتدائی طور پر اجتماعی خودکشی یا زہریلی چیز کے استعمال سمیت مختلف امکانات کو تفتیش کا حصہ بنایا ہے، تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ ابھی کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔

 یہ بھی پڑھیں :قلات: کوئٹہ سے کراچی جانیوالی بس اُلٹ گئی، 3 افراد جاں بحق، 10 زخمی

پانچوں افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا ہے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کے مطابق لاشوں پر بظاہر تشدد یا تیز دھار آلے سے لگنے والے زخموں کے نشانات نہیں ملے۔ جسموں سے حاصل کیے گئے نمونے کیمیائی تجزیے کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں اور موت کی حتمی وجہ کیمیکل ایگزامینیشن رپورٹ آنے کے بعد طے کی جائے گی۔

وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ایسٹ سے رپورٹ طلب کی ہے اور ہدایت کی ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کرکے حتمی نتائج سامنے لائے جائیں۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کی ہے

editor

Related Articles