ایران کے مستقبل سے متعلق فیصلہ کن وقت آ گیا، ٹرمپ کا بڑا اعلان

ایران کے مستقبل سے متعلق فیصلہ کن وقت آ گیا، ٹرمپ کا بڑا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر اہم فیصلوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکا، خطے میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں۔

ایران کے لیے تین راستوں کا ذکر

امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تہران کے سامنے مختلف راستے موجود ہیں۔

 ایران کو فوجی کارروائی، شدید معاشی دباؤ یا معاہدے میں سے کسی ایک صورتحال کا سامنا ہوسکتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکہ کے ایران پر پھر حملے ، کئی شہروں میں دھماکے ، ٹرمپ نے بڑی دھمکی دیدی

ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر وہ اپنا طرزِ عمل تبدیل نہیں کرتا تو امریکا کی جانب سے مزید سخت اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔

ایرانی حکومت کو سخت پیغام

امریکی صدر نے اپنے بیان میں ایران کے خلاف انتہائی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ تہران کو موجودہ صورتحال کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے حوالے سے بڑے فیصلے کا وقت آچکا ہے اور امریکا آنے والے اقدامات پر غور کر رہا ہے۔

خطے میں بڑی تبدیلیوں کا عندیہ

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک اہم مرحلے میں پہنچ چکی ہے۔

 آنے والے دنوں میں خطے میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں  تاہم انہوں نے ممکنہ اقدامات کی حتمی تفصیلات واضح نہیں کیں۔

ایرانی صدر سے ملاقات کا امکان

سخت بیانات کے باوجود امریکی صدر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران امریکہ کشیدگی،آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بند

ٹرمپ کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات ہوسکتی ہے۔

اقوام متحدہ اجلاس اہمیت اختیار کرگیا

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس خاص اہمیت اختیار کرگیا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کو اجلاس میں شرکت کے لیے امریکی ویزے جاری کیے جانے کے بعد سفارتی سطح پر ممکنہ رابطوں کی بھی توقع کی جارہی ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام، امریکی پابندیوں اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی انتہائی حساس مرحلے میں ہیں۔

 ٹرمپ کے تازہ بیان کے بعد یہ معاملہ ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

editor

Related Articles