اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے دعویٰ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اپوزیشن لیڈرز کو موقع فراہم کیا گیا تاہم انہوں نے سوشل میڈیا پر تنقید کے خدشے کے باعث ملاقات کے لیے جانے سے انکار کردیا۔
ہم ڈیجیٹل کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سردار ایاز صادق نے کہا کہ تحریک انصاف کو متعدد مرتبہ مذاکرات کی دعوت دی گئی ہے اور ان سے اپوزیشن کے متعدد ارکان مسلسل ملاقات کرتے رہتے ہیں۔ ان کے مطابق اپوزیشن ارکان کی خواہش ہوتی ہے کہ سیاسی حالات بہتر ہوں اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان ملاقات اور بات چیت کا سلسلہ شروع ہو۔
اسپیکر نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ جو بھی رکن ان سے ملاقات کرتا ہے، اس کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم شروع ہوجاتی ہے کہ وہ اسپیکر سے کیوں ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر رکن کا اسپیکر کے ساتھ کوئی نہ کوئی پارلیمانی معاملہ ہوتا ہے اور اسپیکر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطے کے لیے پل کا کردار ادا کرتا ہے۔
سردار ایاز صادق کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے انہیں فون کرکے کہا تھا کہ ملاقات کے لیے عمران خان کے بھتیجے کو بھیجا جائے۔ تاہم جب انہیں بھیجنے کی بات ہوئی تو عمران خان کی ہمشیرہ کی جانب سے کہا گیا کہ وہ ملاقات کے لیے نہیں جائیں گے۔
اسپیکر نے بتایا کہ اس کے بعد تین اہم شخصیات نے کانفرنس کال کے ذریعے پی ٹی آئی قیادت سے رابطہ کیا۔ ان کے بقول وہ خود، وزیر داخلہ محسن نقوی اور بیرسٹر گوہر اس گفتگو میں موجود تھے، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے اسد قیصر سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
ایاز صادق کے مطابق انہوں نے بیرسٹر گوہر سے کہا کہ وہ خود بھی عمران خان سے ملاقات کے لیے چلے جائیں تاکہ ملاقات ہوسکے، تاہم ان کے مطابق انہیں بھی جانے سے روک دیا گیا۔
اسپیکر نے مزید کہا کہ جب یہ تجویز سامنے آئی کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اپوزیشن لیڈرز کو عمران خان سے ملاقات کے لیے بھیجا جائے تو ان کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ سوشل میڈیا پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا، اس لیے وہ ملاقات کے لیے نہیں گئے۔
ایاز صادق نے کہا کہ ان کے بقول اس صورتحال میں اصل رکاوٹ یہ بن رہی ہے کہ ہر رکن یہ سوچتا ہے کہ اگر وہ کسی دوسرے فریق سے ملاقات کے لیے گیا تو سوشل میڈیا پر اس کے خلاف مہم شروع ہوجائے گی۔
انہوں نے کہا کہ وہ بیرسٹر گوہر کو مورد الزام نہیں ٹھہراتے کیونکہ ان کے مطابق بیرسٹر گوہر کوشش کرتے ہیں، تاہم ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے ہی نکالا جاسکتا ہے اور پارلیمان اس مقصد کے لیے موزوں فورم ہے۔ قومی اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ میں بھی ایاز صادق سیاسی اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات اور پارلیمانی مکالمے کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں۔
دوسری جانب اس معاملے میں مختلف سیاسی فریقوں کے بیانات اور مؤقف بھی سامنے آتے رہے ہیں، اس لیے اپوزیشن رہنماؤں کے ملاقات سے انکار سے متعلق تفصیلات کو فی الحال اسپیکر ایاز صادق کے بیان کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔
ایاز صادق نے کہا کہ اگر سیاسی قیادت مذاکرات کے لیے آمادہ ہو تو رابطے اور ملاقات کا راستہ کھلا ہے، تاہم ان کے مطابق بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا فریقین واقعی مذاکرات کے ذریعے سیاسی معاملات آگے بڑھانا چاہتے ہیں یا نہیں۔