سونے کی قیمت میں ایک بار پھر کمی نے سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ تقریباً 4 ہزار 340 ڈالر فی اونس کے قریب ٹریڈ کرتا دیکھا گیا، جبکہ سرمایہ کار اب صرف سونے کی قیمت نہیں بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات، تیل کی قیمتوں اور امریکی شرحِ سود کے اگلے فیصلوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
گزشتہ سیشن میں سونے کو ملنے والی معمولی تیزی بھی ختم ہوگئی ، مارکیٹ میں موجودہ اتار چڑھاؤ اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ عالمی سرمایہ کار اس وقت کئی بڑے معاشی اور جغرافیائی عوامل کو ایک ساتھ دیکھ رہے ہیں۔
سونے کی قیمت کیوں نیچے آئی؟
ماہرین کے مطابق سونے کی قیمت پر امریکی ڈالر، امریکی ٹریژری ییلڈز اور شرحِ سود کی توقعات کا نمایاں اثر پڑتا ہے، حالیہ دنوں میں بلند توانائی قیمتوں اور امریکی شرحِ سود سے متعلق سخت پالیسی کے خدشات نے سونے پر دباؤ بڑھایا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بھی مارکیٹ کے لیے اہم اشارہ بن گئے ہیں ، غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 22 ستمبر کو کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے اور معاہدے کی امید موجود ہے تاہم واشنگٹن نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اپنا مؤقف بھی برقرار رکھا ہے۔
امریکا ایران مذاکرات سے سونے پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
اگر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے تو عالمی توانائی مارکیٹ پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ، خاص طور پر تیل کی قیمتوں میں کمی یا استحکام مہنگائی سے متعلق خدشات کو کم کرسکتا ہے۔
دوسری جانب اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہتی ہے یا توانائی کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہوتا ہے تو سرمایہ کار ایک بار پھر محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کی طرف متوجہ ہوسکتے ہیں۔
اسی لیے موجودہ صورتحال میں امریکا ایران مذاکرات سونے کی قیمت کے لیے ایک اہم مارکیٹ فیکٹر بن چکے ہیں۔
فیڈرل ریزرو کی شرح سود بھی اہم
امریکی فیڈرل ریزرو نے 16 ستمبر کو شرحِ سود میں 0.25 فیصد پوائنٹ اضافہ کرتے ہوئے ہدف کی حد 3.75 سے 4 فیصد کردی۔ یہ تین سال میں پہلا اضافہ تھا۔
فیڈ نے کہا کہ مہنگائی اب بھی بلند ہے اور پالیسی کا مقصد اسے 2 فیصد کے ہدف کی طرف واپس لانا ہے ، بوسٹن فیڈ کی صدر سوزن کولنز نے حالیہ بیان میں کہا کہ مہنگائی کے خطرات اب بھی موجود ہیں اور قیمتوں کو ہدف تک لانے کے لیے نسبتاً سخت مالیاتی پالیسی ضروری ہوسکتی ہے۔
یہ صورتحال سونے کے لیے اہم ہے کیونکہ شرح سود بڑھنے سے سود دینے والے اثاثوں کی کشش بڑھ سکتی ہے، جبکہ سونا خود کوئی باقاعدہ سود ادا نہیں کرتا ، اسی لیے شرح سود اور امریکی بانڈ ییلڈز میں تبدیلی سونے کی طلب کو متاثر کرسکتی ہے۔
عوام اور سرمایہ کاروں کے لیے کیا مطلب ہے؟
سونے کی عالمی قیمت میں اتار چڑھاؤ کا اثر مقامی مارکیٹوں تک بھی پہنچ سکتا ہے، تاہم پاکستان میں سونے کی قیمت صرف عالمی نرخ سے طے نہیں ہوتی، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر، مقامی طلب اور دیگر مارکیٹ عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اس لیے عالمی مارکیٹ میں ایک دن کی کمی کو مقامی سونے کی قیمت میں اسی تناسب سے کمی کی ضمانت نہیں سمجھا جاسکتا، خریداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے اصل اہمیت آنے والے دنوں کے رجحان کی ہوگی۔
سونے کی قیمت کا آئندہ رخ کیا ہوگا؟
فی الحال سونے کی قیمت کا اگلا راستہ کئی عوامل سے جڑا ہوا ہے ، امریکا ایران مذاکرات میں پیش رفت، عالمی تیل کی قیمت، امریکی ڈالر، ٹریژری ییلڈز اور فیڈرل ریزرو کے آئندہ اقدامات مارکیٹ کی سمت پر اثر ڈال سکتے ہیں ، حالیہ مارکیٹ رپورٹنگ میں بھی سونے کی حرکت کو انہی عوامل سے جوڑا گیا ہے۔
مختصراً، سونے کی قیمت میں حالیہ کمی صرف ایک معمولی مارکیٹ موومنٹ نہیں بلکہ عالمی معیشت میں جاری کئی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔ آنے والے دنوں میں امریکا ایران مذاکرات اور امریکی شرح سود سے متعلق نئی پیش رفت سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز رہ سکتی ہے۔