چین میں لمبے پنجوں والے ڈائنوسار کی نئی نسل دریافت

چین میں لمبے پنجوں والے ڈائنوسار کی نئی نسل دریافت

محققین نے چین سے ملنے والے ایک انتہائی محفوظ فوسل ڈھانچے کی مدد سے لمبے اور بڑے پنجوں والے ڈائنوسار کی ایک نئی نسل دریافت کرلی۔

اس نئی نسل کو کیراسارس چینگلینسِس کا نام دیا گیا ہے، جو دو ٹانگوں پر چلنے والے تھریزینوسارس گروپ سے تعلق رکھتی تھی۔ اس گروپ کے ڈائنوسارز کی نمایاں خصوصیت ان کے ہاتھوں پر موجود غیرمعمولی طور پر بڑے اور تیز پنجے تھے۔ محققین کے مطابق چینگلینسِس اپنی نوعیت کے دریافت ہونے والے بڑے ڈائنوسارز میں شامل ہے.

یہ بھی پڑھیں:دی بیٹلز سے ٹیلر سوئفٹ تک، جعلی ریکارڈز کا بڑا نیٹ ورک پکڑا گیا

منفرد جسمانی خصوصیات

تھریزینوسارس گروپ سے تعلق رکھنے والے ڈائنوسارز میں پہلے بھی کئی غیرمعمولی خصوصیات سامنے آچکی ہیں۔ ان کے سر نسبتاً چھوٹے، گردنیں لمبی اور دانت پتوں کی شکل کے ہوتے تھے، جبکہ اگلی ٹانگوں پر بڑے اور تیز پنجے موجود ہوتے تھے۔

نئی نسل کی شناخت اس وقت ہوئی جب مغربی لیاؤننگ میں واقع جیہول بائیوٹا کی فوسل فارمیشن سے ایک انتہائی محفوظ فوسل دریافت کیا گیا۔ اس فوسل میں ڈائنوسار کی تقریباً مکمل کھوپڑی بھی موجود تھی۔

13 کروڑ سال پرانے علاقے سے فوسل دریافت

شمال مشرقی چین میں واقع جیہول بائیوٹا فوسل فارمیشن تقریباً 13 کروڑ 50 لاکھ سے 12 کروڑ 10 لاکھ سال پرانی ہے۔ یہ علاقہ ڈائنوسارز کے متعدد اہم فوسلز کی دریافت کے حوالے سے مشہور ہے، خصوصاً ایسے ڈائنوسارز کے فوسلز جن کے جسم پر پر موجود تھے۔

ڈائنوسار کی لمبائی 3.6 میٹر تھی

محققین کے مطابق دریافت ہونے والا فوسل ایک ایسے ڈائنوسار کا تھا جو ابھی مکمل طور پر بالغ نہیں ہوا تھا۔ اس کی سر سے دم تک لمبائی تقریباً 3.6 میٹر تھی۔ فوسل میں ٹانگوں کی ہڈیاں موجود نہ ہونے کی وجہ سے محققین اس کا وزن براہ راست معلوم نہیں کرسکے۔ تاہم قریبی رشتہ دار ڈائنوسارز سے موازنے کی بنیاد پر اس کا وزن تقریباً 117 سے 274 کلوگرام کے درمیان ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ مکمل بالغ ہونے کے بعد اس نسل کے ڈائنوسار کا وزن اس سے بھی زیادہ ہوسکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:دی بیٹلز سے ٹیلر سوئفٹ تک، جعلی ریکارڈز کا بڑا نیٹ ورک پکڑا گیا

نچلے جبڑے میں 45 سے زائد دانت

تحقیق کے دوران اس ڈائنوسار کے دانتوں کے حوالے سے بھی دلچسپ معلومات سامنے آئیں۔ اس کے دانت نسبتاً چھوٹے اور ایک دوسرے کے انتہائی قریب تھے جبکہ نچلے جبڑے میں 45 سے زائد دانت موجود تھے۔ یہ نئی دریافت قدیم چین میں پائے جانے والے تھریزینوسارس اور ان کی جسمانی خصوصیات کو سمجھنے میں اہم معلومات فراہم کرتی ہے۔

editor

Related Articles