ایشیائی ترقیاتی بینک کی پاکستان معاشی شرح نمو اور مہنگائی سے متعلق خطرناک پیشگوئی

ایشیائی ترقیاتی بینک کی پاکستان معاشی شرح نمو اور مہنگائی سے متعلق خطرناک پیشگوئی

ایشیائی ترقیاتی بینک نے رواں مالی سال 2027 کے لیے پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.7 فیصد اور مہنگائی 8.3 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی ہے، جو حکومتی اہداف کے برعکس معاشی سست روی اور بڑھتی گرانی کا واضح اشارہ ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ’ایشین ڈویلپمنٹ آؤٹ لک‘ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے معاشی اعشاریے تاحال دباؤ کا شکار ہیں۔

رپورٹ میں رواں مالی سال 2027 کے لیے معاشی ترقی کی رفتار 3.7 فیصد پر برقرار رکھی گئی ہے، جبکہ حکومت نے اس کا ہدف 4 فیصد مقرر کر رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایشیائی ترقیاتی بینک کا پاکستان کے لیے اضافی ایک ارب ڈالر فنانسنگ کا عندیہ

دوسری جانب ہوشربا مہنگائی کے حوالے سے عوام کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔ بینک کا اندازہ ہے کہ مہنگائی کی اوسط شرح 8.3 فیصد تک رہے گی، جو کہ حکومت کے 7 فیصد ہدف اور اسٹیٹ بینک کی 5 سے 7 فیصد کی درمیانی مدت کی حد سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ اس مہنگائی کی بنیادی وجہ توانائی، نقل و حمل اور زرعی اجناس کی لاگت میں مسلسل اضافہ ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کا بحران اور معاشی خطرات

رپورٹ میں عالمی اور علاقائی حالات کو پاکستانی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا گیا ہے۔ خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے، تو پاکستان کے لیے توانائی کی درآمدی لاگت اچانک بڑھ سکتی ہے جس سے ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آ سکتا ہے۔

مزید برآں خلیجی ممالک کی لیبر مارکیٹ متاثر ہونے کی صورت میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں بھی کمی کا سنگین خدشہ ہے۔

اس کے علاوہ اندرونی خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے کفایت شعاری کے اقدامات سے پیچھے ہٹنا، عالمی سطح پر مالیاتی معاونت کی سخت شرائط، ٹیکس وصولیوں میں کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث زرعی نقصانات معاشی منظرنامے کو دھندلا رہے ہیں۔ توانائی کے شعبے اور دیگر سرکاری اداروں کی اصلاحات میں تاخیر بھی اس بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے۔

گزشتہ مالی سال کی کارکردگی اور سابقہ تخمینے

اگر ماضی کے تخمینوں پر نظر ڈالی جائے تو اے ڈی بی نے جولائی میں جاری اپنی سابقہ رپورٹ میں بھی موجودہ شرح نمو 3.7 فیصد رہنے کی ہی پیشگوئی کی تھی، تاہم اس سے قبل اپریل 2026 میں بینک کا اندازہ تھا کہ پاکستان 4.5 فیصد کی شرح نمو حاصل کر لے گا۔

گزشتہ مالی سال 2026 کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کی معیشت کی شرح نمو 3.2 فیصد سے بڑھ کر 3.7 فیصد رہی تھی۔ اس اضافے میں خدمات، صنعت اور نجی سرمایہ کاری کا اہم کردار رہا۔

مزید پڑھیں:پاکستان ایشیائی ترقیاتی بینک سے 50 کروڑ ڈالرکے مساوی نیا قرض لےگا،وزارت خزانہ

خاص طور پر زرعی شعبے نے حالیہ سیلاب سے بڑی فصلوں کو پہنچنے والے شدید نقصان کے باوجود 2.9 فیصد کی نمایاں نمو دکھائی، جبکہ نجی سرمایہ کاری میں بھی 8.6 فیصد کا متاثر کن اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

’مستقل اور جامع اصلاحات ہی واحد راستہ ہیں‘

اے ڈی بی کی اس رپورٹ کو ایک ’ویک اپ کال‘ قرار دے رہے ہیں۔ اس خبر کے تناظر میں اے ڈی بی کی پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر ایما فین کا مؤقف بھی اسی تجزیے کی تائید کرتا ہے کہ بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے جامع حکمتِ عملی درکار ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا المیہ سٹرکچرل اصلاحات میں ہچکچاہٹ ہے۔ جب تک توانائی کے شعبے کے گردشی قرضوں کو ختم کرنے، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری یا تنظیمِ نو جیسے کڑے فیصلے نہیں کیے جاتے، معاشی اہداف اور زمینی حقائق کے درمیان یہ خلیج برقرار رہے گی۔

غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے حکومت کو قلیل مدتی ریلیف کے بجائے طویل مدتی پالیسیوں پر تسلسل کے ساتھ عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا۔

Related Articles