اقوام متحدہ میں او آئی سی رابطہ گروپ کا اجلاس، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی شدید مذمت، حقِ خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت کا اعلان
Home - اہم خبریں - اقوام متحدہ میں او آئی سی رابطہ گروپ کا اجلاس، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی شدید مذمت، حقِ خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت کا اعلان
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر او آئی سی رابطہ گروپ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
نیویارک میں 22 ستمبر 2026 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رابطہ گروپ برائے جموں کشمیر کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔
او آئی سی کے سیکریٹری جنرل کی زیرِ صدارت ہونے والے اس اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، آذربائیجان اور نائجر کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ، او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ، آزاد انسانی حقوق کمیشن اور کشمیریوں کے حقیقی نمائندوں نے مقبوضہ وادی کی تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دی۔
انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اور آبادیاتی تبدیلیاں
مشترکہ اعلامیے میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشتگردی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ تنظیم نے پہلگام حملے کے بعد انتقامی کارروائی کے طور پر 2800 کے قریب بے گناہ افراد کی گرفتاری اور 3 درجن کے لگ بھگ گھروں کی مسماری کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
اجلاس نے 2019 سے اب تک 34 لاکھ سے زیادہ ڈومیسائل سرٹیفکیٹس کے اجرا کو مقبوضہ وادی کے آبادیاتی تناسب کو بگاڑنے کی مذموم سازش قرار دیا۔
اس کے علاوہ حریت رہنماؤں یاسین ملک، آسیہ اندرابی اور کینسر کے مرض سے نبرد آزما شبیر احمد شاہ کی مسلسل نظربندی اور ضمانت مسترد کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
کشمیری سیاسی جماعتوں پر پابندی، کارکنوں کی جائیدادوں کی ضبطی اور عیدین کے مواقع پر تاریخی جامع مسجد سری نگر اور عید گاہ میں مذہبی اجتماعات پر پابندیوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
علاقائی سلامتی اور مئی 2025 کی کشیدگی
رابطہ گروپ نے مئی 2025 میں جنوبی ایشیا میں ہونے والی فوجی کشیدگی، بشمول پاکستان اور آزاد کشمیر میں متعدد مقامات پر بھارت کے بلاجواز اور غیر قانونی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا۔
اعلامیے میں کشیدگی کے بعد فائر بندی کے معاہدے اور ثالثی کرنے والے ممالک کی کوششوں کا خیرمقدم کیا گیا۔ تنظیم نے زور دیا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے حوالے سے بھارتی رہنماؤں کے غیر ذمہ دارانہ بیانات علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
انتخابی ڈراما اور 5 اگست کے اقدامات مسترد
او آئی سی نے ایک بار پھر بھارت کے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی آئین کے تحت ہونے والا کوئی بھی انتخابی عمل کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔
اجلاس نے او آئی سی کے آزاد انسانی حقوق کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ آزاد کشمیر اور لائن آف کنٹرول پر زمینی حقائق جاننے کے لیے ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجے۔
بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی صورتحال بہتر بنائے، تمام کالے قوانین کا خاتمہ کرے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے۔
بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے او آئی سی کا رابطہ گروپ تسلسل کے ساتھ کشمیریوں کی آواز عالمی سطح پر اٹھا رہا ہے۔ تنظیم اس سے قبل بھی 2019 سے لے کر 2025 تک متعدد مشترکہ اعلامیے جاری کر چکی ہے، جن میں کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو خطے کے پائیدار امن کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔
حالیہ اعلامیہ اسی سفارتی تسلسل کی کڑی ہے جس کا مقصد عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال سے مسلسل باخبر رکھنا ہے۔
علاقائی امن کشمیر کے حتمی حل سے مشروط
واضح رہے کہ او آئی سی کا یہ مشترکہ اعلامیہ پاکستان کی کامیاب سفارت کاری اور کشمیریوں کی بے لوث جدوجہد کا عکاس ہے۔
اس اعلامیے میں مئی 2025 کی فوجی کشیدگی کا حوالہ دینا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ عالمی برادری کشمیر کو محض ایک انسانی حقوق کا مسئلہ نہیں بلکہ دو ایٹمی قوتوں کے درمیان ایک خطرناک ’فلیش پوائنٹ‘ سمجھتی ہے۔
او آئی سی کی جانب سے ڈومیسائل کے اجرا کے اعداد و شمار پیش کرنا اور فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجنے کا مطالبہ دراصل بھارت کے اس بیانیے کو مسترد کرتا ہے کہ کشمیر اس کا اندرونی معاملہ ہے۔
تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ محض اعلامیوں سے آگے بڑھ کر اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کو بھارت پر عملی دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے تاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔