وفاقی دارالحکومت میں 27 ستمبر کے متوقع احتجاج کو روکنے کے لیے پولیس کی جانب سے تجارتی ’کنٹینرز‘ کے بے دریغ استعمال نے شہر میں ادویات اور اشیائے خوردونوش کی شدید قلت پیدا کر دی ہے۔
سیکیورٹی کے نام پر قبضے میں لیے گئے متعدد ’کنٹینرز‘ میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے لیے لایا جانے والا ضروری سامان بھی موجود تھا، جس سے مارکیٹ میں سپلائی کا نظام مکمل طور پر بیٹھ گیا ہے۔
پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے جڑواں شہروں کے اہم داخلی اور خارجی راستوں سمیت بڑی شاہراہوں کو سیل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس مقصد کے لیے بڑے پیمانے پر مال بردار ’کنٹینرز‘ کو سڑکوں پر کھڑا کیا جا رہا ہے۔
سب سے تشویشناک امر یہ ہے کہ ان میں سے کئی ’کنٹینرز‘ خالی نہیں تھے، بلکہ ان میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہریوں کے لیے روزمرہ استعمال کی اشیا، زندگی بچانے والی ادویات اور خوراک موجود تھی۔ مال بردار گاڑیوں کو روکنے سے مارکیٹوں تک سامان نہیں پہنچ پا رہا۔
3 ہفتوں سے جاری ناکہ بندی
گزشتہ 3 ہفتوں سے حکام کی جانب سے ’کنٹینرز‘ کو سڑکیں بند کرنے اور وفاقی دارالحکومت میں نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اس مسلسل اور طویل ناکہ بندی کے باعث تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ ٹرانسپورٹرز اور تاجر برادری کا مال سڑکوں پر پھنسنے سے انہیں بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے، جبکہ دکانوں پر اشیائے ضروریہ کا ذخیرہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
دارالحکومت اور ’کنٹینرائزیشن‘ کی روایت
پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں احتجاج اور دھرنوں کی ایک طویل تاریخ رہی ہے، اور دارالحکومت کو مظاہرین سے محفوظ رکھنے کے لیے ریاستی مشینری ہمیشہ ’کنٹینرائزیشن‘ کا سہارا لیتی ہے۔
27 ستمبر کا متوقع احتجاج بھی اسی سیاسی کھینچا تانی کی کڑی ہے، جس کے پیشِ نظر انتظامیہ نے پیشگی انتظامات کرتے ہوئے پورے شہر کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔
تاہم اس بار خالی ڈبوں کے بجائے تجارتی مال سے لدے ’کنٹینرز‘ کو رکاوٹوں کے طور پر استعمال کرنے سے صورتحال معمول سے کہیں زیادہ گھمبیر ہو گئی ہے۔
موجودہ سیکیورٹی حکمت عملی کے معاشی و سماجی اثرات
تجارتی مال سے بھرے ’کنٹینرز‘ کو سڑکوں پر کھڑا کرنے سے نہ صرف مارکیٹ میں اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہوتی ہے، بلکہ اس سے ذخیرہ اندوزی اور مہنگائی کے نئے طوفان کو بھی دعوت ملتی ہے۔
ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے روایتی طریقوں پر انحصار کرنے کے بجائے جدید اور متبادل تکنیک اپنانے کی ضرورت ہے، تاکہ امن و امان قائم رکھنے کی کوششوں میں عام شہریوں کو ادویات اور خوراک جیسی بنیادی انسانی ضروریات سے محروم نہ ہونا پڑے۔