عالمی مارکیٹ میں جمعرات کے روز سونے کی قیمت میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ سرمایہ کار امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود پالیسی اور مشرق وسطیٰ میں توانائی کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.1 فیصد کمی کے بعد 4 ہزار 288.98 ڈالر فی اونس رہی، جبکہ دسمبر کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز کی قیمت معمولی تبدیلی کے ساتھ 4 ہزار 317.50 ڈالر فی اونس پر رہی۔
ماہرین کے مطابق سونے کی قیمت پر اس وقت امریکی شرح سود ڈالر کی قدر اور امریکی ٹریژری بانڈز کی منافع بخش شرحیں اہم اثر ڈال رہی ہیں۔ شرح سود میں اضافے یا بلند شرح سود کو طویل عرصے تک برقرار رکھنے کے امکانات سونے کے لیے دباؤ کا باعث بن سکتے ہیں کیونکہ سونا باقاعدہ منافع یا سود فراہم نہیں کرتا۔
وی ٹی مارکیٹس کے چیف اسٹریٹیجی آفیسر راس میکسویل کے مطابق سرمایہ کار گزشتہ ہفتے شرح سود میں اضافے کے بعد فیڈرل ریزرو کے آئندہ اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ان کے مطابق امریکی ڈالر، ٹریژری ییلڈز اور مشرق وسطیٰ میں تیل و توانائی کی فراہمی سے متعلق صورتحال بھی مارکیٹ کے لیے اہم عوامل ہیں۔
امریکی مرکزی بینک نے گزشتہ ہفتے بنیادی شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا تھا، جس کے بعد شرح سود 3.75 سے 4 فیصد کی حد میں پہنچ گئی۔ اب رواں سال اکتوبر میں مزید شرح سود میں اضافے کے امکانات بھی زیر بحث ہیں۔
مارکیٹ ماہرین کے مطابق اگر امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے مزید شرح سود بڑھانے کا واضح اشارہ سامنے آتا ہے تو سونے کی قیمت پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے، کیونکہ زیادہ شرح سود کے ماحول میں سرمایہ کار سود دینے والے مالیاتی اثاثوں کو زیادہ پرکشش سمجھ سکتے ہیں۔
دوسری جانب تیل کی قیمتوں میں کمی نے سونے کی قیمت کو کسی حد تک سہارا دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں توانائی کی فراہمی سے متعلق صورتحال بھی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے۔
دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔ عالمی مارکیٹ میں چاندی کی قیمت 0.6 فیصد کمی کے بعد 64.07 ڈالر فی اونس رہی، جبکہ پلاٹینم 0.2 فیصد اضافے کے بعد 1,754.05 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔
پیلیڈیم کی قیمت میں 0.1 فیصد کمی ہوئی اور یہ 1,260.70 ڈالر فی اونس کی سطح پر آگیا۔
ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں امریکی فیڈرل ریزرو کے بیانات شرح سود سے متعلق فیصلے، ڈالر کی قدر، ٹریژری ییلڈز اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال عالمی سطح پر سونے کی قیمت کے اہم محرکات رہیں گے۔