وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، جس میں پاک ایران تعلقات، خطے کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ہوئی،دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ خطے میں ہونے والی اہم پیش رفت پر بھی گفتگو کی۔
ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی شریک تھے۔
علاقائی صورتحال پر گفتگو
ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی روابط کے ذریعے معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کی جانب سے کوششیں جاری ہیں،وزیراعظم شہباز شریف اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے دوران بھی مذاکرات، سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کے کردار کا ذکر کر چکے ہیں۔
ملاقات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قیادت کے ساتھ ملاقات اچھی رہی،وزیراعظم نے بتایا کہ ملاقات کے دوران مکہ معاہدے پر بھی بات چیت ہوئی، انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت کے ساتھ مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسحاق ڈار کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات
اس سے قبل نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی، دونوں رہنماؤں نے پاک ایران تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا،ملاقات میں دونوں جانب سے علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی تازہ پیش رفت پر بھی خیالات کا اظہار کیا گیا۔
مذاکرات اور سفارت کاری پر زور
اسحاق ڈار نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور مسلسل رابطوں کی اہمیت پر زور دیا،دونوں فریقوں نے موجودہ صورتحال میں قریبی رابطے برقرار رکھنے اور باہمی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
پاک ایران روابط
وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور دوستانہ روابط کو مزید آگے بڑھانے کی اہمیت بھی اجاگر ہوئی،ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے ساتھ خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں اور باہمی رابطوں کو جاری رکھنے پر بھی بات چیت کی گئی۔