چین کی پانڈا ڈپلومیسی، 2 پانڈے امریکا کے لیے روانہ

چین کی پانڈا ڈپلومیسی، 2 پانڈے امریکا کے لیے روانہ

واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ علامتی سربراہی اجلاس کے بعد چین نے خیر سگالی کے جذبے اور اپنی مشہورِ زمانہ ’پانڈا سفارتکاری‘ کے تحت دو دیوہیکل پانڈے امریکا روانہ کر دیے ہیں۔

چینی صدر شی جن پنگ کے دورہ امریکا کے دوران کیے گئے اس فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے، دونوں پانڈے آئندہ 10 برس کے لیے اٹلانٹا چڑیا گھر کے حوالے کیے گئے ہیں۔

چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا اور سرکاری میڈیا آؤٹ لیٹ گلوبل ٹائمز کے مطابق، پنگ پنگ اور فو شوانگ نامی 2 پانڈے اتوار کی صبح تقریباً 3 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق ہفتے کی رات 12 بجے) چین کے شہر چینگڈو کے شوانگلیو انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ایک چارٹرڈ پرواز کے ذریعے امریکا روانہ ہوئے۔

یہ 15 گھنٹے طویل فضائی سفر ہے جس کے لیے فیڈ ایکس کمپنی کا بوئنگ 777 طیارہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

پرواز کے دوران پانڈوں کی غذائی ضروریات کا خاص خیال رکھا گیا ہے، جس کے لیے ابلے ہوئے مکئی کے بن، بانس کی تازہ کونپلیں اور گاجریں طیارے میں وافر مقدار میں موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:فوڈ پانڈا کا بڑا اقدام، ڈیلیوری رائیڈرز کے لیے آرام گاہ قائم

ایوی ایشن ٹریکنگ پلیٹ فارم ’فلائٹ ریڈار 24‘ کے مطابق، الاسکا کے قریب پہنچنے پر یہ طیارہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ٹریک کی جانے والی پرواز بن گیا تھا۔

روانگی سے قبل چینگڈو ریسرچ بیس میں ان کی الوداعی تقریب بھی منعقد کی گئی، جبکہ امریکی ماہرین اور نگرانوں کی ایک خصوصی ٹیم بھی اس پرواز میں پانڈوں کے ہمراہ سفر کر رہی ہے۔

اٹلانٹا چڑیا گھر کی تیاریاں اور پانڈوں کی تفصیلات

دونوں پانڈے امریکی ریاست جارجیا کے اٹلانٹا چڑیا گھر میں آئندہ 10 برس تک قیام کریں گے۔ ان کی آمد کے پیشِ نظر چڑیا گھر کی انتظامیہ نے پانڈوں کے انکلوژر کی وسیع پیمانے پر تزئین و آرائش کی ہے اور ماہر نگرانوں کی ایک نئی ٹیم بھی تشکیل دی ہے۔

اٹلانٹا کی آب و ہوا چینگڈو سے کافی حد تک مماثلت رکھتی ہے، اس لیے وہاں مقامی طور پر اگائے جانے والے بانسوں کی مستقل فراہمی کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اٹلانٹا چڑیا گھر نے 1999 سے ایک چوتھائی صدی تک چینی پانڈوں کی میزبانی کی تھی، تاہم 2024 کے آغاز سے وہاں کوئی پانڈا موجود نہیں تھا۔

دونوں نئے پانڈوں کی پیدائش سال 2020 کی ہے۔ نر پانڈا پنگ پنگ اس وقت 6 سال کا ہو چکا ہے، جبکہ مادہ پانڈا فو شوانگ اگلے ماہ 6 برس کی ہو جائے گی۔ قید یا چڑیا گھروں میں ان جانوروں کی اوسط عمر عام طور پر 30 سال کے قریب ہوتی ہے۔

عالمی تعلقات اور تاریخی پانڈا سفارتکاری

دیوہیکل بلیک اینڈ وائٹ پانڈے دنیا بھر میں انتہائی مقبول ہیں۔ بیجنگ کئی دہائیوں سے ان خوبصورت جانوروں کو غیر ملکی تعلقات کو فروغ دینے اور اپنی ’سافٹ پاور‘ کے سفیروں کے طور پر مختلف ممالک کو ادھار دیتا آ رہا ہے۔

اس انوکھی سفارتکاری کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو 1972 میں اس وقت کے امریکی صدر رچرڈ نکسن کے تاریخی دورہ چین کے بعد بیجنگ نے واشنگٹن کو پانڈوں کا ایک جوڑا تحفے میں دیا تھا۔

تاہم، یہ سفارتکاری سیاسی حالات کے تابع بھی رہتی ہے۔ رواں برس کے اوائل میں جب جاپانی وزیراعظم نے تائیوان پر حملے کی صورت میں عسکری مداخلت کا اشارہ دیا تھا، تو اس سفارتی کشیدگی کے بعد چین نے سخت ردعمل دیتے ہوئے جاپان سے اپنے دو پانڈے واپس بلا لیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان نے دنیا کی دوسری بڑی کیپیٹل مارکیٹ تک رسائی حاصل کرلی، پانڈا بانڈ اجرا عالمی اعتماد کا مظہر ہے، وزیرِ خزانہ

عالمی سطح پر بڑی طاقتوں کے درمیان تعلقات کو ہموار کرنے کے لیے اکثر ثقافتی اور غیر روایتی ذرائع کا استعمال کیا جاتا ہے۔

واشنگٹن کا حالیہ پاک، چین سربراہی اجلاس اگرچہ علامتی طور پر کافی اہمیت کا حامل تھا، لیکن اس میں کوئی بڑی اسٹرٹیجک یا سفارتی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔

ایسی صورتحال میں ان پانڈوں کی امریکا روانگی ایک انتہائی سوچی سمجھی سفارتی چال ہے۔ یہ اقدام واضح کرتا ہے کہ بیجنگ، امریکا کے ساتھ موجودہ تناؤ کو کم کرنے اور عوامی سطح پر ایک مثبت تاثر قائم کرنے کا خواہاں ہے۔

یہ ’نرم سفارتکاری‘ کشیدہ سیاسی اور تجارتی محاذوں پر برف پگھلانے کے لیے ایک کارگر ہتھیار سمجھی جاتی ہے۔

ایک طرف جاپان سے سفارتی تنازع پر پانڈوں کی واپسی اور دوسری جانب انہیں تعلقات کی بہتری کے لیے امریکا بھیجنا اس بات کا غماز ہے کہ چین اپنی اس روایتی طاقت کو نہ صرف انعام کے طور پر، بلکہ عالمی سیاست میں اپنا دباؤ اور ناراضگی ظاہر کرنے کے لیے بھی انتہائی مہارت سے استعمال کر رہا ہے۔

Related Articles