اوپن اے آئی کے اے آئی ایجنٹس امریکی سرکاری ویب سائٹس تک پہنچ گئے

اوپن اے آئی کے اے آئی ایجنٹس امریکی سرکاری ویب سائٹس تک پہنچ گئے

اوپن اے آئی کے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹس نے امریکی حکومت کی متعدد ویب سائٹس سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی، جبکہ بعض مواقع پر انہوں نے ویب سائٹس کے حفاظتی اقدامات کو نظر انداز کرنے کی کوشش بھی کی۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعات اوپن اے آئی کے ایسے تجربات کے دوران پیش آئے جن میں اے آئی ایجنٹس کو نسبتاً خودمختار انداز میں ویب پر معلومات تلاش کرنے کا کام دیا گیا تھا۔ کمپنی نے بعض سرگرمیوں کو’مس الائنڈ‘ قرار دیا ہے، یعنی ایجنٹس نے دی گئی حدود کے مطابق کام نہیں کیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ان ایجنٹس نے امریکی محکمہ تجارت اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن سمیت مختلف سرکاری اداروں کی ویب سائٹس تک رسائی حاصل کی۔

یہ بھی پڑھیں:واٹس ایپ پر اے آئی ایجنٹس کی انٹری، آئی فون صارفین کے لیے نیا فیچر متعارف

کن امریکی اداروں کی ویب سائٹس تک رسائی ہوئی؟

اوپن اے آئی کے مطابق اس کے ایجنٹس نے حکومتوں، جامعات، سرکاری اداروں اور دیگر تنظیموں سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ان میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن، مردم شماری بیورو اور محکمہ تعلیم سمیت مختلف ادارے شامل تھے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ایجنٹس بنیادی طور پر عوامی معلومات کے مستند ذرائع تلاش کر رہے تھے، تاہم بعض ایجنٹس اپنی مقررہ حدود سے آگے چلے گئے اور ویب سائٹس کے حفاظتی انتظامات کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی۔ اوپن اے آئی کے مطابق امریکی سرکاری ویب سائٹس سے حاصل کیا گیا ڈیٹا عوامی نوعیت کا تھا۔

ایس ای سی کی معلومات دوسری ویب سائٹ پر پہنچ گئیں

اوپن اے آئی نے بتایا کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن سے حاصل کی گئی کچھ معلومات بعد میں اے آئی ایجنٹس نے ایک دوسری ویب سائٹ پر شائع کردی تھیں۔کمپنی کے مطابق یہ اقدام دانستہ طور پر نہیں کیا گیا تھا۔

مردم شماری بیورو سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کے دوران بھی ایجنٹس نے ایسے ٹولز استعمال کیے جو عام طور پر سافٹ ویئر ڈویلپرز کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔

صارفین کی تصاویر بھی منتقل ہوئیں

اوپن اے آئی نے اے آئی ایجنٹس سے متعلق دیگر واقعات کی تفصیلات بھی جاری کی ہیں۔ کمپنی کے مطابق کم از کم 53 واقعات میں کسی اے آئی ایجنٹ نے چیٹ جی پی ٹی صارف کی سرگرمی سے ایک تصویر حاصل کرکے اسے کسی دوسری جگہ منتقل کیا۔

اوپن اے آئی نے کہا کہ ان معاملات میں صارفین نے کمپنی کو اپنی تصاویر اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی، تاہم کمپنی کے مطابق اس اجازت کا مطلب یہ نہیں تھا کہ تصاویر کو اس طرح کسی دوسری جگہ منتقل کیا جائے۔

کمپنی نے تسلیم کیا کہ یہ ڈیٹا کا مناسب استعمال نہیں تھا اور کہا کہ وہ ان صارف تصاویر کو ہٹانے کے لیے کام کر رہی ہے جو کسی تیسرے فریق کو منتقل ہوئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:فنگر پرنٹس مدھم ہونے سے پریشان نہ ہوں، نادرا نے متبادل سہولت متعارف کروادی

ہگنگ فیس واقعے کے بعد نگرانی سخت

اوپن اے آئی نے اے آئی ایجنٹس کے ایسے واقعات کو جولائی میں پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد زیادہ سنجیدگی سے لینا شروع کیا۔ اس واقعے میں کمپنی کے ایک اے آئی ایجنٹ گروپ نے بغیر کسی واضح ہدایت کے ہگنگ فیس کے اے آئی ڈویلپر پلیٹ فارم تک رسائی حاصل کرکے اسے ہیک کرنے کی کوشش کی تھی۔

ہگنگ فیس نے اس واقعے کو پہلے عوام کے سامنے لایا، جس کے بعد اوپن اے آئی نے بھی اس کی ذمہ داری قبول کی۔ ہگنگ فیس کے سربراہ کلیمنٹ ڈیلانگ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک اجلاس میں کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ ایسے واقعات مزید اے آئی لیبارٹریز میں بھی نگرانی کے بغیر پیش آتے رہے ہوں گے۔

اے آئی سیفٹی کے لیے عالمی اصول بنانے کا مطالبہ

اقوام متحدہ کے اسی اجلاس میں اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سام آلٹ مین اور اینتھروپک کے سربراہ داریو امودی نے عالمی رہنماؤں سے اے آئی کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی معیارات وضع کرنے کا مطالبہ کیا۔

دونوں ٹیکنالوجی رہنماؤں نے ایسے نظام بنانے پر زور دیا جن کے ذریعے اے آئی سے متعلق خطرناک یا غیر متوقع سرگرمیوں کی نگرانی اور بروقت رپورٹنگ کی جاسکے۔ یہ واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب زیادہ خودمختار اے آئی ایجنٹس کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے اور ان کے انسانی نگرانی کے بغیر کیے گئے اقدامات پر ٹیکنالوجی ماہرین کی توجہ بڑھ رہی ہے۔

editor

Related Articles