افغانستان کے صوبوں نورستان اور کنڑ میں طالبان اور ’افغانستان فریڈم فرنٹ‘ کے درمیان خونریز جھڑپوں میں 5 طالبان جنگجو ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے ہیں، کابل کی حکمران رجیم کو اس وقت مختلف محاذوں پر شدید دباؤ کا سامنا ہے جبکہ مزاحمتی فورسز نے متعدد چوکیوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
’افغانستان فریڈم فرنٹ‘ (اے ایف ایف) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مشرقی صوبوں نورستان اور کنڑ میں طالبان فورسز پر اچانک اور منظم حملے کیے گئے۔ ان مسلح کارروائیوں کے دوران شدید نوعیت کی فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں طالبان کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔
فریڈم فرنٹ کے مطابق ان جھڑپوں کے دوران کم از کم 5 طالبان ہلاک جبکہ 10 شدید زخمی ہوئے ہیں۔ جنگجوؤں کی پسپائی کے بعد مزاحمتی فورسز نے ان علاقوں میں قائم طالبان رجیم کی متعدد اہم سیکیورٹی چوکیوں کا قبضہ بھی چھین لیا ہے۔ ان تازہ ترین جھڑپوں نے علاقے کی سیکیورٹی صورتحال کو انتہائی کشیدہ کر دیا ہے۔
مزاحمتی تنظیموں کا نیا اتحاد
طالبان کے خلاف جاری اس عسکری جدوجہد میں اب مزاحمتی تنظیمیں متحد ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ’افغانستان نیشنل ریزسٹنس فرنٹ‘ نے آزادی کی اس مسلح مہم میں ’اے ایف ایف‘ اور دیگر تمام مزاحمتی گروہوں کی کھلی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔
اس اہم اعلان کے بعد طالبان مخالف قوتوں کو ایک نیا اور مضبوط عسکری پلیٹ فارم ملا ہے۔ مختلف مسلح دھڑوں کا ایک مشترکہ محاذ پر جمع ہونا کابل کے حکمرانوں کے لیے ایک نئے اور انتہائی سنگین چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے۔
مسلح مزاحمت
اگست 2021 میں کابل پر طالبان کے کنٹرول کے بعد سے ہی ملک کے مختلف حصوں، خصوصاً شمالی اور مشرقی پہاڑی سلسلوں میں مخالفت جاری تھی۔ ابتدا میں یہ مزاحمت محض وادی پنجشیر اور اندراب تک محدود سمجھی جا رہی تھی جہاں سابق افغان سیکیورٹی فورسز کے اہلکار پناہ گزین تھے۔
تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کابل حکومت کی سخت گیر پالیسیوں، سیاسی شمولیت کے فقدان اور عالمی تنہائی کے باعث اس مسلح مخالفت کا دائرہ وسیع ہو چکا ہے۔ اب یہ بغاوت نورستان اور کنڑ جیسے دشوار گزار اور اسٹریٹجک اہمیت کے حامل صوبوں تک پھیل گئی ہے۔
بڑھتی ہوئی بغاوت اور کابل کی حکمتِ عملی کا جائزہ
افغانستان کے موجودہ زمینی حقائق اور بدلتی صورتحال کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ کابل پر قابض رجیم اپنا غیر قانونی اقتدار برقرار رکھنے کے لیے شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔
داخلی بے چینی، معاشی بدحالی اور عوامی حمایت نہ ہونے کی وجہ سے یہ حکومت اب مبینہ طور پر دہشت گرد گروہوں کی کھلی پشت پناہی کر رہی ہے۔
اقتدار کو طول دینے کے لیے شدت پسند عناصر پر انحصار ایک ایسی خطرناک حکمتِ عملی ہے جو نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
طالبان کو اس وقت ملکی سرحدوں کے اندر سے جس کثیر الجہتی دباؤ، عسکری چیلنج اور عوامی ردعمل کا سامنا ہے، وہ آنے والے دنوں میں طالبان حکومت کے لیے بقا کا مسئلہ بن سکتا ہے۔