کسی بھی شہری کے فنگر پرنٹ مدھم ہو جانے کی صورت میں اب پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس مسئلے کے حل کے لیے نادرا کی جانب سے ایک موثر متبادل ٹیکنالوجی متعارف کرا دی گئی ہے۔
اس سلسلے میں نادرا کے ترجمان نے میڈیا سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شہریوں کی جانب سے فنگر پرنٹس مدھم ہونے سے متعلق متعدد شکایات موصول ہوئی تھیں۔
فنگر پرنٹس کی شناخت میں مشکلات اور نئی ٹیکنالوجی
ترجمان نے آگاہ کیا کہ فنگر پرنٹس کی شناخت میں مشکلات کا سامنا کرنے والے تمام شہریوں کے لیے اب فیشل ریکگنیشن کا سافٹ ویئر لانچ کر دیا گیا ہے جبکہ جن کے فنگر پرنٹس نہیں ہیں وہ فیشل کے ذریعے آگے بڑھ سکتے ہیں۔
اس جدید نظام کے ذریعے ایسے افراد بھی اپنا شناختی عمل باآسانی مکمل کر سکیں گے جن کے فنگر پرنٹس یا تو موجود نہیں ہوتے یا پھر بائیومیٹرک مشین انہیں شناخت کرنے سے قاصر رہتی ہے۔
نئی سہولت کا بنیادی مقصد ایسے تمام شہریوں کو درپیش مشکلات کا عملی حل فراہم کرنا ہے جن کی انگلیوں کے نشانات کسی بھی وجہ سے بائیومیٹرک ڈیوائس پر درست طور پر ظاہر نہیں ہو پاتے تھے۔ اب ایسے تمام افراد متبادل طریقہ کار کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی شناخت کی تصدیق باآسانی کر سکیں گے۔
بینکوں اور دیگر اداروں میں پیش آنے والے مسائل کا حل
حکام کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض شہریوں کے فنگر پرنٹس نہ ہونے یا بائیومیٹرک ڈیوائسز پر درست شناخت نہ ہو پانے کے باعث انہیں روزمرہ زندگی میں مختلف اداروں کے اندر شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا، بالخصوص بینکوں میں بائیومیٹرک تصدیق کے دوران اس نوعیت کے معاملات اکثر پیش آتے ہیں۔
نئی متعارف کردہ سہولت کے ذریعے فنگر پرنٹس سے متعلقہ مشکلات کا شکار افراد کے لیے اب شناخت کی تصدیق کا ایک محفوظ متبادل راستہ مہیا کر دیا گیا ہے۔
اس اقدام سے بینکوں اور دیگر تمام متعلقہ اداروں میں بائیومیٹرک تصدیق کے دوران پیش آنے والے مسائل کو نمایاں حد تک کم کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ ٹیلی کام سیکٹر اور بینکوں کے پاس موجود بعض بائیومیٹرک ڈیوائسز کے تکنیکی مسائل کی وجہ سے بھی صارفین کو اس طرح کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔