خیبر پختونخوا میں سہیل آفریدی کی حکومت خطرے میں پڑتے ہی فتنہ الخوارج نے اپنی دہشت گردانہ کاروائیاں تیز کر دی ہیں ، ضلع ٹانک کے علاقے وزیر آباد میں ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی پر دہشتگردوں نے فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں 3 اہلکار شہید ہوگئے ، فائرنگ کے بعد موٹر سائیکل سوار حملہ آور موقع سے فرار ہوگئے۔
تھانہ سٹی پولیس کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔
پولیس کے مطابق حملہ آور ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے، جسے بعد ازاں گرہ بڈھا کے علاقے سے برآمد کرلیا گیا ، فائرنگ کے واقعے میں 2 راہ گیر بھی زخمی ہوئے، جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
محسن نقوی کا اظہارِ افسوس
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ٹانک میں ٹریفک پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے 3 اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
انہوں نے شہید اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اہلخانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پولیس اہلکاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات
تحریک انصاف اور فتنہ الخوارج کے اس گٹھ جوڑ نے مل کر خیبر پختونخوا کے عوام کو ایک بار پھر نشانے پر رکھ لیا ہے، آج ٹانک میں تین اہلکار اس گٹھ جوڑ کی بدولت بربریت کا نشانہ بن گئے ہیں۔
ٹانک میں ہونیوالے اس پولیس کی گاڑی پر حملے پر فتنہ الخوارج کی فائرنگ کو سیاق او سباق میں دیکھنے کی ضرورت ہے، ادھر فتنہ الخوارج کی بی ٹیم یعنی کے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے اِسی پولیس کو ناکارہ اور کمزور کرنے کے لئے پولیس ایکٹ جیسے غیر قانونی کام شروع کر رکھے ہیں جبکہ دوسری طرف فتنہ الخوارج اُسی پولیس کو نشانہ بنا رہا ہے ۔
تحریک انصاف نے پورے صوبے کا امن خطرے میں ڈال دیا ہے بجائے اس کے کہ پولیس کو مضبوط کرے اور صوبے سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے کام کرے وہ دہشتگردوں کے ساتھ مل کر صوبے کو کمزور کررہی ہے ، اس ملک کے عوام سب دیکھ رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں اس گٹھ جوڑ کی اب مزید اجازت نہیں دی جائے گی ۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز لکی مروت میں حملے کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہوئے تھے۔
اس سے قبل ڈیرہ اسماعیل خان میں چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش دھماکے اور فائرنگ کے واقعے میں 12 افراد جاں بحق جبکہ 35 زخمی ہوئے تھے ، کوہاٹ میں 18 ستمبر کو پولیس لائنز پر حملے میں بھی جانی نقصان رپورٹ ہوا تھا۔