حضرت نوحؑ کی کشتی سے جوڑی جانے والی جگہ پر نئی تحقیق شروع

حضرت نوحؑ کی کشتی سے جوڑی جانے والی جگہ پر نئی تحقیق شروع

ترکی میں موجود تقریباً 515 فٹ لمبی کشتی نما چٹانی ساخت ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جسے بعض افراد حضرت نوحؑ کی کشتی سے جوڑتے ہیں۔

یہ ساخت ترکی کے دورپینار فارمیشن کے مقام پر موجود ہے، جہاں طویل عرصے سے ماہرین ارضیات اور محققین تحقیق کرتے آرہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق زیر زمین اسکیننگ اور ارضیاتی تحقیق کے دوران اس مقام کے نیچے بعض ایسے نمونے سامنے آئے ہیں جو کمروں اور راہداریوں جیسی شکلوں سے مشابہ دکھائی دیتے ہیں۔

محققین اب دورپینار فارمیشن میں مزید اسکیننگ اور سائنسی جانچ کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ زیر زمین موجود یہ ساختیں حقیقت میں کیا ہیں اور ان کی نوعیت کس طرح کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:شراب خانے میں بندر کی انوکھی حرکت، بوتل اٹھائی اور مشروب پی کر سو گیا

تاہم ماہرین نے تاحال اس مقام کو حضرت نوحؑ کی کشتی قرار دینے کی سائنسی تصدیق نہیں کی۔ زیر زمین نظر آنے والے نمونوں کی حقیقت جاننے کے لیے مزید تحقیق، شواہد اور آزاد سائنسی جانچ ضروری ہے۔

یوں یہ مقام مذہبی روایت اور سائنسی تحقیق کے درمیان ایک دلچسپ موضوع ضرور بنا ہوا ہے، تاہم اسے حضرت نوحؑ کی کشتی قرار دینا فی الحال ثابت شدہ سائنسی حقیقت نہیں ہے۔

editor

Related Articles