انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) نے 2023 کے جناح ہاؤس حملہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خزانہ حماد اظہر کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 7 روز کی توسیع کردی۔
سرور روڈ پولیس نے 9 مئی 2023 کو سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران جناح ہاؤس، جو کور کمانڈر کی رہائش گاہ بھی ہے، پر حملے اور توڑ پھوڑ کے الزام میں پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات درج کیے تھے۔
پیر کو پولیس نے 21 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر سابق وفاقی وزیر خزانہ حماد اظہر کو عدالت کے روبرو پیش کیا۔ سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کو ملزم کا موبائل فون اور سم برآمد کرنی ہے، جو مقدمے میں اہم شواہد ہیں۔
پراسیکیوشن نے عدالت سے استدعا کی کہ حماد اظہر کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 7 روز کی توسیع کی جائے۔
عدالت میں اپنے موقف میں حماد اظہر نے مزید جسمانی ریمانڈ طلب کیے جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں پہلے ہی 21 روز جسمانی ریمانڈ پر رکھا جا چکا ہے، جبکہ جس واقعے کا الزام عائد کیا گیا ہے اس میں وہ موجود بھی نہیں تھے۔
حماد اظہر نے کہا کہ یہاں قتل کے ملزم کو بھی 14 روزہ ریمانڈ پر بھیجا جاتا ہے، تو کیا ان کا جرم قتل سے بھی زیادہ سنگین ہوگیا ہے؟
سابق وفاقی وزیر نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ انہیں اپنے وکلا یا اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پولیس کی جانب سے مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا، جس کے بعد عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے حماد اظہر کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 7 روز کی توسیع کردی۔
حماد اظہر، سابق گورنر پنجاب میاں محمد اظہر کے صاحبزادے ہیں۔ انہیں 9 مئی کے واقعات سے متعلق مقدمات میں کارروائی میں شامل نہ ہونے پر متعدد انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کی جانب سے اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما 9 مئی کے پرتشدد واقعات کے بعد پارٹی قیادت کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں روپوش ہوگئے تھے اور ایک سال بعد 22 مئی 2024 کو دوبارہ منظرعام پر آئے تھے۔
اس سے قبل کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے سیکریٹریٹ پر چھاپہ مارا تھا، تاہم اس کارروائی کے دوران حماد اظہر گرفتاری سے بچ گئے تھے۔