وفاق اور ایچ آئی ٹی پر الزامات لگانے والے سہیل آفریدی کے دعوے  جھوٹ کا پلندہ نکلے، تحقیقاتی رپورٹ نے کچا چٹھا کھول دیا

وفاق اور ایچ آئی ٹی پر الزامات لگانے والے سہیل آفریدی کے دعوے  جھوٹ کا پلندہ نکلے، تحقیقاتی رپورٹ نے کچا چٹھا کھول دیا

حال ہی میں اختیار ولی کے شائع کئے گئے وائٹ پیپر کے مخالف ٹویٹ میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے وفاق اور ایچ آئی ٹی پر صوبائی حکومت سے رقم وصول کرنے کے باوجود سامان کی فراہمی میں جان بوجھ کر تاخیر کا الزام لگایا ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔

 آزاد تحقیقات کے مطابق مئی 2025 سے اب تک خیبرپختونخوا پولیس اور صوبائی حکومت کو مجموعی طور پر 73 گاڑیاں فراہم کی جا چکی ہیں، ان میں 59 بلٹ پروف گاڑیاں اور 14 اعلیٰ ترین بی-7 (B7) لیول کی بکتر بند گاڑیاں (APs) شامل ہیں۔

14 بکتر بند گاڑیاں

 ان 14 بکتر بند گاڑیوں میں 6 ‘ڈریگنز’ (Dragoons) بھی شامل ہیں جن کی سیکیورٹی کا معیار انتہائی اعلیٰ ہے اور یہ خیبرپختونخوا پولیس کے علاوہ کسی اور کو فراہم نہیں کی گئیں۔

 مزید 4 ڈریگنز مکمل طور پر تیار کھڑی ہیں اور صرف وصولی کی منتظر ہیں، جبکہ بقیہ 7 اے پی سیز اکتوبر کے پہلے ہفتے اور مزید 6 اے پی سیز نومبر کے وسط تک تیار ہو جائیں گی۔

جہاں تک وزیراعلیٰ کے اس دعوے کا تعلق ہے کہ اسلام آباد پولیس کو جدید اے پی سیز دی گئی ہیں، درحقیقت اسلام آباد پولیس کو ‘محافظ’ (Mohafiz) اے پی سیز دی گئی ہیں، جنہیں خود خیبرپختونخوا پولیس نے لینے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ ان کا اصرار زیادہ محفوظ بی-7 لیول پروٹیکشن پر تھا۔

یہ بھی پڑھیں :کے پی پولیس دہشتگردوں سے لڑتی آرہی ہے، کے پی حکومت اسے ٹائیگر فورس بنانا چاہتی ہے، فیصل کریم کنڈی

 جیمرز کے حوالے سے حقائق

آزاد تحقیقات کے مطابق  جیمرز کے حوالے سے بھی حقائق ان کے دعووں کی نفی کرتے ہیں، رواں مالی سال کے دوران 81 آر سی آئی ای ڈی (RCIED) جیمرز کے چار مختلف معاہدے کیے گئے جن میں سے 25 جیمرز کی فراہمی یا پیشکش کی جا چکی ہے اور باقی ماندہ اکتوبر 2026 سے مارچ 2027 کے درمیان فراہم کیے جانے ہیں۔ سی پی او کے پی پولیس کے پہلے معاہدے کے تحت 5 ڈبلیو بی-300 (WB-300) جیمرز جولائی 2026 کی مقررہ تاریخ تک فراہم کر دیے گئے تھے۔

مزید 20 ڈبلیو بی-300 جیمرز تیار

دوسرے معاہدے کے تحت مزید 20 ڈبلیو بی-300 جیمرز تیار کر کے 2 ستمبر 2026 کو فراہمی کے لیے پیش کر دیے گئے تھے اس کے جواب میں کے پی پولیس نے جیمرز کی تنصیب کے لیے اپنی 10 گاڑیاں این آر ٹی سی (NRTC) کو بھجوا دی ہیں لیکن بقیہ 10 گاڑیوں کا تاحال انتظار ہے۔

اسی طرح سی ٹی ڈی کے تیسرے معاہدے کے تحت 20 ڈبلیو بی-300 اور 16 ایم پی-300 جیمرز مقررہ مدت کے مطابق نومبر 2026 کے وسط تک، جبکہ سی پی او کے چوتھے معاہدے کے 20 ڈبلیو بی-300 جیمرز مارچ 2027 کی ڈیڈلائن سے قبل ہی جنوری 2027 تک تیار اور فراہم کر دیے جائیں گے۔

23 اینٹی ڈرون گنز کے دو معاہدے

ڈرون خطرات سے نمٹنے کے لیے بھی 23 اینٹی ڈرون گنز کے دو معاہدے کیے گئے ہیں جن پر بروقت کام جاری ہے،سی پی او کے پی پولیس کے پہلے معاہدے کے تحت سپوفر کے ساتھ 7 اینٹی ڈرون گنز اپنی مقررہ مدت دسمبر 2026 تک فراہم کر دی جائیں گی، جبکہ سی ٹی ڈی کے پی پولیس کے دوسرے معاہدے کے تحت ہینڈ ہیلڈ ڈیٹیکٹر کے ساتھ 16 اینٹی ڈرون گنز کی فراہمی اکتوبر 2026 کی مقررہ مدت کے اندر مکمل کر لی جائے گی۔

 یہ تمام شواہد واضح کرتے ہیں کہ سیکیورٹی آلات کی فراہمی میں کوئی سست روی نہیں برتی جا رہی، بلکہ زیادہ تر سامان مقررہ شیڈول کے مطابق فراہم کیا جا رہا ہے یا وصولی کے لیے تیار کھڑا ہے۔

editor

Related Articles