تحریک انصاف کے پی کے میں اس وقت شدید بے چینی پائی جارہی ہے ،صوبے میں دہشتگردی بڑھتی جارہی ہے، وزیر اعلیٰ اور صوبائی حکومت کی رٹ نظرنہیں آرہی صوبے کے حالات موجودہ حکومت کے باعث انتہائی خراب ہوچکے ہیں ۔
کے پی کے حکومت کے چل چلائو کا وقت قریب لگتا ہے ،وفاق میں بھی صوبے کے حالات کے باعث پریشانی پائی جارہی ہے ایسے میں گورنر راج اور دیگر آپشنز پر غور کیا جارہا ہے جبکہ دوسری طرف اڈیالہ جیل میں بند قیدی کی طرف سے اپنی بہن کو دیا گیا بیان بھی سامنے آیا ہے کہ سہیل آفریدی اگر لانگ مارچ لے کر نہیں آتے تو علی امین کو کہو کہ سہیل کیخلاف عدم اعتماد لے کر آئے ۔
قبل ازیں علی امین گنڈا پور کا بھی بیان آیا ہے کہ میں دوبارہ وزیر اعلیٰ بننے کے لیے تیار ہوں ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال میں صوبے کے نااہل وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنی کابینہ کے تمام لوگوں کو سخت احکامات دیے ہیں کے وہ کل شام تک پچھلے ایک سال میں د ئیےگئے تمام ٹھیکوں، منصوبوں اور لین دین کی فائلیں سہیل آفریدی کو جمع کروا دیں تاکہ جانے کے بعد کسی بھی چیز کا ثبوت باقی نا رہے ۔
دوسری طرف ن لیگ کے رہنما امیر مقام نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ جو مرضی کرلو سہیل آفریدی کو اپنے کرپشن کا حساب تو دینا پڑے گا ،اب سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ میں تھر تھلی مچی ہوئی ہے ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی نے کابینہ کے لوگوں کو کہا ہے کہ کل تک مجھے ایک سال میں دئیے گئے ٹھیکوں اور لین دین کی فائلیں لیکر دو تاکہ ثبوت مٹا جاسکیں کیونکہ اب ان کو اندازہ ہوچکا ہے کہ گیم ازاوور۔۔