خیبر پختونخوا ’سہیل آفریدی حکومت‘ کے سیاسی جلسوں اور اسلا آباد پر چڑھائی کے لیے وسائل منٹوں میں دستیاب، فورسز کی حفاظت کے لیے خزانہ خالی

خیبر پختونخوا ’سہیل آفریدی حکومت‘ کے سیاسی جلسوں اور اسلا آباد پر چڑھائی کے لیے وسائل منٹوں میں دستیاب، فورسز کی حفاظت کے لیے خزانہ خالی

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی لہر کے دوران صوبائی حکومت کی جانب سے پولیس کے سیکیورٹی بجٹ میں شدید کٹوتی اور 200 ارب روپے کے فنڈز کی مبینہ عدم شفافیت کے سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔

اعلیٰ پولیس حکام کی مسلسل التجا کے باوجود فورس کو درکار ہنگامی سیکیورٹی فنڈز کا محض 3.3 فیصد حصہ ہی جاری کیا گیا ہے۔

آزاد ڈیجیٹل کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں ’انفراسٹرکچر اور تعمیرات‘ کے نام پر 200 ارب روپے کے خطیر فنڈز کی غیر شفاف تقسیم اور بدعنوانی کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیںخیبر پختونخوا میں کھربوں روپے کا میگا کرپشن اسکینڈل، صوبائی حکومت بچانے کے لیے وزیر اعلیٰ کا فرنٹ مین ’پتنگ ہادی‘ راتوں رات دبئی فرار

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صوبائی قیادت کی جانب سے متعدد ترقیاتی منصوبے صرف کاغذوں اور فائلوں کی حد تک مکمل دکھائے گئے، جبکہ ان کا بڑا کمیشن مخصوص جیبوں کی نذر کر دیا گیا۔

ایک ایسے وقت میں جب صوبے کے بارڈر ایریاز اور پسماندہ اضلاع بدامنی کا شکار ہیں، اتنی بڑی رقم کی غیر متوازن تقسیم نے صوبائی حکومت کی مالیاتی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

پولیس کے ہنگامی سیکیورٹی بجٹ پر کلہاڑا

سرحدی اور پسماندہ اضلاع میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی کا مقابلہ کرنے اور فورس کے جوانوں کو محفوظ بنانے کے لیے آئی جی پی خیبر پختونخوا نے ایک اہم اقدام اٹھایا تھا۔

فورس کو نائٹ ویژن آلات، جدید ترین اسلحہ اور بلٹ پروف چوکیاں فراہم کرنے کے لیے 42 ارب روپے کے ہنگامی فنڈز کی باضابطہ سمری وزیراعلیٰ کو ارسال کی گئی تھی۔

تاہم صوبائی حکومت نے امن و امان اور پولیس اہلکاروں کے تحفظ کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اس بجٹ پر بیدردی سے کلہاڑا چلایا اور اسے کاٹ کر صرف 14 ارب روپے تک محدود کر دیا۔

فنڈز کے عدم اجرا سے فورس کو درپیش شدید مشکلات

آزاد ڈیجیٹل کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق معاملہ صرف بجٹ میں 28 ارب روپے کی کٹوتی تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ کٹے ہوئے 14 ارب روپے کی فراہمی میں بھی شدید لعل و جوپوش سے کام لیا گیا ہے۔

اعلیٰ ترین پولیس افسران کی جانب سے درجنوں بار کی جانے والی باضابطہ درخواستوں کے باوجود بجٹ میں کٹوتی کر کے اب تک بمشکل 1.4 ارب روپے ہی جاری کیے گئے ہیں، جو فورس کی اصل مطلوبہ رقم 42 ارب کا صرف 3.3 فیصد بنتا ہے۔

مزید پڑھیں:خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی طویل حکمرانی کے باوجود بدانتظامی، کرپشن اور بدامنی کے نئے ریکارڈ قائم، عوام نے بڑا فیصلہ کرلیا

اس کے نتیجے میں فرنٹ لائن پر جانوں کا نذرانہ دینے والے سپاہی ضروری حفاظتی سامان کے بغیر کھلے عام خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔

سیاسی تحریک اور سیکیورٹی ترجیحات کا تضاد

رپورٹ کے مطابق ایک طرف جہاں صوبے کی محافظ فورس کو بنیادی سیکیورٹی آلات اور ہنگامی فنڈز کے لیے ترسایا جا رہا ہے، وہیں دوسری جانب اسلام آباد پر چڑھائی، سیاسی جلسوں اور احتجاجی سرگرمیوں کے لیے صوبائی وسائل منٹوں میں فراہم کر دیے جاتے ہیں۔

سیاسی و انتظامی حلقوں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی ترجیح امن و امان کے قیام اور فورس کی مضبوطی کے بجائے سیاسی اقتدار کے کھیل پر مرکوز ہے، جس کی قیمت فرنٹ لائن پر موجود اہلکاروں کو اپنی جانوں سے چکانی پڑ رہی ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کی پولیس فورس گزشتہ 2 دہائیوں سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پہلی دفاعی لائن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ افغان سرحد سے متصل علاقوں اور ضم شدہ قبائلی اضلاع میں حالیہ مہینوں کے دوران کالعدم تنظیموں کے شب خون مارنے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

رات کی تاریکی میں ہونے والے اچانک حملوں سے نمٹنے کے لیے نائٹ ویژن ٹیکنالوجی اور محفوظ بلٹ پروف پوسٹس کی غیر موجودگی فورس کی سب سے بڑی کمزوری بن کر سامنے آئی ہے، جس کے بارے میں پولیس قیادت متعدد بار حکومت کو متوجہ کر چکی ہے۔

صوبائی حکمرانی اور انتظامی حکمتِ عملی میں خلا

رپورٹ کے مطابق حکومتی نظم و نسق کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صوبائی حکومت کی انتظامی ترجیحات شدید تضاد کا شکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا، جمرود سیاسی اتحاد کا ترقیاتی کاموں میں کرپشن کے خلاف احتجاج کا اعلان

کسی بھی ریاست یا صوبے کی بنیادی ترین ذمہ داری اپنے شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سلامتی کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔

فورس کے بجٹ میں 96 فیصد سے زیادہ کی عملی کٹوتی اور فورس کی چیخ و پکار پر توجہ نہ دینا انتظامی غفلت کو ظاہر کرتا ہے۔ جب ترقیاتی فنڈز میں شفافیت کے بجائے سیاسی تحرک کو ترجیح دی جائے گی تو اس سے نہ صرف سلامتی کے ادارے کمزور ہوں گے بلکہ صوبے میں بدامنی کی لہر کو مزید تقویت ملے گی۔

Related Articles