ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے خلا میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے لیے ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے امکانات جانچنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔
گوگل کے مطابق کمپنی اپنے تحقیقی منصوبے ’پروجیکٹ سن کیچر‘کے تحت اگلے ہفتے ایک پروٹو ٹائپ سیٹلائٹ خلا میں بھیجے گی۔ اس مشن کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا خلا کو بڑے پیمانے پر اے آئی کمپیوٹنگ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
یہ مشن اسپیس ایکس کے ٹرانسپورٹر 18 رائیڈ شیئر لانچ کے ذریعے خلا میں بھیجا جائے گا۔ اس منصوبے کے لیے گوگل نے سیٹلائٹ کمپنی پلینیٹ لیبز کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔
سیٹلائٹ میں گوگل کے تیار کردہ ٹینسر پروسیسنگ یونٹس بھیجے جائیں گے۔ ان کے ذریعے یہ جانچا جائے گا کہ اے آئی چپس خلا میں شدید تابکاری، انتہائی درجہ حرارت اور لانچ کے دوران پیدا ہونے والے دباؤ کو کس حد تک برداشت کرسکتی ہیں۔
خلا میں روایتی طریقے سے ہوا کے ذریعے کولنگ ممکن نہیں ہوتی، اس لیے گوگل ایک نئے کولنگ سسٹم کی بھی آزمائش کرے گا، جس میں ہیٹ پائپس اور ریڈی ایٹرز استعمال کیے جائیں گے۔
گوگل کے مطابق ان اے آئی چپس کا زمین پر بھی تجربہ کیا جاچکا ہے، تاہم خلا کے حقیقی ماحول میں ان کی کارکردگی جانچنے کے لیے مدار میں ٹیسٹ ضروری ہے۔
گوگل کے علاوہ اسپیس ایکس اور اسٹار کلاؤڈ سمیت دیگر کمپنیاں بھی خلا میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے امکانات پر کام کر رہی ہیں۔ اس تصور کے حامیوں کے مطابق خلا میں سورج کی روشنی سے مسلسل توانائی حاصل کرنے کا امکان موجود ہے، جس سے زمین پر بجلی کی محدود دستیابی کا مسئلہ کم کیا جاسکتا ہے۔
تاہم، ماہرین کے مطابق خلا میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے لیے بھاری لانچ لاگت، پیچیدہ انجینیئرنگ اور سیٹلائٹس کی بڑے پیمانے پر تیاری جیسے مسائل موجود ہیں۔ اسی وجہ سے اس ٹیکنالوجی کو تجارتی سطح پر استعمال ہونے میں ابھی کئی سال لگ سکتے ہیں۔