محکمہ خزانہ نے پنشن اصلاحات کیلئے بجٹ جاری کر دیا

محکمہ خزانہ  نے پنشن اصلاحات کیلئے بجٹ جاری کر دیا

محکمہ خزانہ نے پنشن اصلاحات کے لیے 62 کروڑ 24 لاکھ روپے کا بجٹ جاری کر دیا ہے۔ 

میڈیا رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ اصلاحات کا خرچ صرف حکومت نہیں اٹھائے گی، فنڈز میں حکومت اور ملازمین دونوں حصہ ڈالیں گے، یعنی آدھی رقم حکومت اور آدھی ملازمین کی طرف سے آئے گی۔

فنڈز کا نیا فارمولا

نئے طریقے کے تحت پنشن فنڈ کا بوجھ برابر تقسیم کیا جائے گا ، حکومت نصف رقم ادا کرے گی اور باقی نصف ملازمین کے حصے میں آئے گا۔

یہ بھی پڑھیں : موبائل فون نہ رکھنے والے پنشنرز کیلئے بڑی سہولت، پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کیسے بنوائیں؟

 خبر میں ابھی یہ واضح نہیں کہ ملازمین کا حصہ تنخواہ سے کٹوتی کی صورت میں لیا جائے گا یا کسی اور طریقے سے ، اس کی تفصیل متعلقہ نوٹیفکیشن آنے پر سامنے آئے گی۔

پنشن اصلاحات کی ضرورت کیوں؟

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پنشن کا بوجھ کئی برسوں سے بحث کا موضوع ہے ، وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق موجودہ پنشن نظام قومی خزانے پر بڑا مالی بوجھ بن چکا ہے اور وفاقی حکومت کا سالانہ پنشن بل 1169 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

اسی تناظر میں 2024 سے نئی بھرتیوں کے لیے کنٹری بیوشن پنشن اسکیم متعارف کرائی گئی، جبکہ پرانی ڈیفائنڈ بینیفٹ اسکیم میں بھی اصلاحات کی گئیں ، حالیہ دنوں میں وفاقی حکومت کے پنشن اصلاحات کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے 50 کروڑ ڈالر قرض لینے کے منصوبے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔

سرکاری ملازمین پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

جو ملازمین اس فنڈ میں حصہ ڈالیں گے، ان کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہوگا کہ ان کا حصہ کتنا ہوگا اور ریٹائرمنٹ پر انہیں کیا فائدہ ملے گا؟  ان سوالوں کے جواب نوٹیفکیشن اور اصلاحات کی تفصیلات سے ہی واضح ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں :پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کی سہولت کن پنشنرز کیلئے دستیاب ہے ؟ نادرا نے بتا دیا

بجٹ جاری ہونے کے بعد اگلا مرحلہ اصلاحات کے عملی نفاذ کا ہے اس میں ملازمین کی کٹوتی کی شرح، فنڈ کے انتظام اور موجودہ پنشنرز پر اثرات جیسے نکات اہم ہوں گے۔

editor

Related Articles