سائبر کرائم کرنیوالا چاہے کہیں بھی بیٹھا ہو، اسے قانون کی گرفت میں لانا ہے ، محسن نقوی

سائبر کرائم کرنیوالا چاہے کہیں بھی بیٹھا ہو، اسے قانون کی گرفت میں لانا ہے ، محسن نقوی

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے  کہا ہے کہ سائبر کرائم کرنے والا  چاہے کہیں بھی  بیٹھا ہو، اسے قانون کی گرفت میں لانا ہے ، انہوں نے سائبر جرائم کے خلاف کارروائیوں میں مزید تیزی لانے اور زیر التوا شکایات و مقدمات کو جلد نمٹانے کی ہدایت کردی۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے سینٹرل زون ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا، جہاں ان کی زیر صدارت خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سائبر کرائم کے خلاف جاری آپریشنز، تحقیقات اور مختلف مقدمات پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران آن لائن مالیاتی فراڈ، ہراسانی اور منظم سائبر کرائم نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈاؤن مزید مؤثر اور تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

وفاقی وزیر داخلہ نے شکایات سیل، فرانزک لیب اور انویسٹی گیشن ونگ کا معائنہ بھی کیا جبکہ شہری کی جانب سے شکایت درج کرانے سے لے کر تفتیش اور ملزمان کے خلاف کارروائی تک پورے نظام کا جائزہ لیا گیا۔

محسن نقوی نے کہا کہ سائبر کرائم کرنے والا شخص چاہے کہیں بھی بیٹھا ہو، اسے قانون کی گرفت میں لانا ہے۔ انہوں نے زیر التوا مقدمات اور شکایات کا کیس ٹو کیس جائزہ لینے اور غیر ضروری تاخیر ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ شہری کو شکایت درج کرانے کے بعد مہینوں انتظار نہیں کرنا چاہیے، ہر شکایت پر بروقت پیش رفت نظر آنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں :وزیرداخلہ محسن نقوی کی سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ انتونیو گوتریس سے ملاقات

وفاقی وزیر داخلہ نے ڈیجیٹل فرانزک کی استعداد بڑھانے، جدید فرانزک ٹولز کے استعمال اور تفتیشی افسران کی خصوصی تربیت کی بھی ہدایت کی جبکہ آن لائن مالیاتی فراڈ میں ملوث منظم گروہوں، جعلی اکاؤنٹس، ڈیجیٹل بلیک میلنگ اور آن لائن ہراسانی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرنے پر زور دیا۔

انہوں  نے کہا کہ مالیاتی فراڈ کی شکایت موصول ہوتے ہی فوری رسپانس کا نظام مؤثر بنایا جائے تاکہ متعلقہ اداروں کے ساتھ بروقت رابطے کے ذریعے متاثرہ شہری کی رقم محفوظ بنانے اور ملزمان تک پہنچنے کے امکانات بڑھائے جاسکیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ سائبر کرائم کے نئے طریقوں کا مقابلہ روایتی تفتیش سے نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ افرادی قوت کے ذریعے کیا جاسکتا ہے ،  این سی سی آئی اے کو حقیقی معنوں میں پاکستان کی سائبر پولیس بنانا ہے جو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شہریوں کو ڈیجیٹل دنیا میں تحفظ فراہم کرے۔

یہ بھی پڑھیں : نادرا کی بڑی سہولت، برتھ سرٹیفکیٹ کے بغیر بھی شناختی کارڈ بنے گا

وزیر داخلہ نے خواتین اور بچوں کو آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور ڈیجیٹل استحصال سے متعلق شکایات کو خصوصی ترجیح دینے کی ہدایت کرتے کہا کہ شہریوں کے ڈیٹا، پرائیویسی اور مالی مفادات کا تحفظ این سی سی آئی اے کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لیے ادارے کو جدید ٹیکنالوجی، ضروری وسائل اور تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔

اس موقع پر ڈی جی ایف آئی اے، آئی جی اسلام آباد پولیس، ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور زون اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔

editor

Related Articles