ایشین گیمز کرکٹ ٹورنامنٹ کے سنسنی خیز فائنل میں بھارت نے پاکستان کو 19 رنز سے شکست دے کر طلائی تمغہ جیت لیا ہے۔ 212 رنز کے بھاری ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم حسن نواز کی شاندار 96 رنز کی اننگز کے باوجود مقررہ 20 اوورز میں 192 رنز ہی بنا سکی۔
جاپان کے شہر نشان میں کھیلے گئے اس اہم فائنل میں بھارت نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 211 رنز کا مجموعہ ترتیب دیا۔
اننگز کا آغاز قدرے محتاط تھا اور 28 کے مجموعی اسکور پر پہلی وکٹ گر گئی، لیکن ابھیشیک شرما نے محض 28 گیندوں پر 61 رنز کی دھواں دھار باری کھیل کر ٹیم کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔
ان کی اس اننگز میں 7 فلک شگاف چھکے اور 3 چوکے شامل تھے۔ مڈل آرڈر میں تلک ورما نے پاکستانی بولرز کی خوب خبر لی اور صرف 22 گیندوں پر 4 چھکوں کی مدد سے ناقابل شکست 51 رنز بنا کر سکور بورڈ کو تیزی سے آگے بڑھایا۔
شیوم دوبے نے بھی 27 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی۔ پاکستان کی جانب سے عرفات منہاس اور احمد دانیال نے 2، 2 وکٹیں حاصل کیں تاہم کوئی بھی بولر بھارتی بلے بازوں کے رنز کی رفتار کو روکنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔
حسن نواز کی تنہا مزاحمت اور پاکستان کی اننگز
ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا۔ ابتدائی بلے بازوں نے دباؤ میں آ کر جلد ہی وکٹیں گنوا دیں۔ کپتان صاحبزادہ فرحان 10، عثمان خان 3 اور معاذ صداقت 23 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جس سے 39 کے مجموعی اسکور پر 3 اہم کھلاڑی پویلین لوٹ گئے۔
تاہم ایک جانب سے نوجوان بلے باز حسن نواز نے انتہائی دلیری سے بھارتی بولرز کا مقابلہ کیا اور تن تنہا میچ کو دلچسپ مرحلے میں داخل کر دیا۔
انہوں نے 51 گیندوں پر 7 چھکوں اور 5 چوکوں کی مدد سے 96 رنز کی شاندار اور زبردست اننگز کھیلی۔ صائم ایوب نے 29 رنز بنا کر ان کا ساتھ دینے کی کوشش کی لیکن مطلوبہ رن ریٹ کا دباؤ مسلسل بڑھتا گیا۔
پوری پاکستانی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 192 رنز تک محدود رہی۔ بھارت کی طرف سے اکشر پٹیل، واشنگٹن سندر اور شیوم دوبے نے بہترین بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 2، 2کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
کرکٹ ڈپلومیسی اور ایونٹ
ایشین گیمز میں کرکٹ کی شمولیت نے خطے میں اس کھیل کی مقبولیت کو مزید چار چاند لگا دیے ہیں۔ ٹورنامنٹ کے آغاز سے ہی شائقین کی نظریں اس روایتی حریفوں کے متوقع فائنل پر مرکوز تھیں۔
بھارت اور پاکستان کا ٹکراؤ محض ایک کھیل نہیں بلکہ اعصاب کی جنگ تصور کیا جاتا ہے۔ دونوں ٹیمیں اس سے قبل بھی مختلف علاقائی ٹورنامنٹس میں مدمقابل آتی رہی ہیں، جہاں دباؤ کو بہتر انداز میں سنبھالنے والی ٹیم ہی ہمیشہ فاتح قرار پاتی ہے۔
اس فائنل نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ پاک بھارت ٹاکرے میں تکنیک کے ساتھ ساتھ اعصابی مضبوطی ہی کامیابی کی اصل کنجی ہے۔
میچ کا تکنیکی اور نفسیاتی جائزہ
اس معرکے کا بغور جائزہ لیا جائے تو دونوں ٹیموں کے درمیان بنیادی فرق بڑے ہدف کے دباؤ اور مڈل اوورز کی شاندار بولنگ کا تھا۔ بھارت نے پاور پلے کے بعد جس تسلسل کے ساتھ رنز بنائے، اس نے پاکستانی بولنگ لائن کو مکمل طور پر بکھیر دیا۔
ابھیشیک شرما نے پاکستانی سپنرز کے خلاف جو جارحانہ حکمت عملی اپنائی، اس نے فیلڈ پلیسمنٹ کو بے بس کر دیا۔
دوسری جانب، پاکستانی اننگز میں حسن نواز کی انفرادی کارکردگی کے سوا کوئی بھی بڑی شراکت داری قائم نہ ہو سکی۔ ٹی 20 طرز کی جدید کرکٹ میں 200 سے زیادہ رنز کے تعاقب میں محض ایک بلے باز کی کارکردگی پر انحصار کرنا کبھی سودمند ثابت نہیں ہوتا۔
بھارت کے پاس اکشر پٹیل اور سندر کی صورت میں ایسے بولرز موجود تھے جنہوں نے درست لائن اور لینتھ پر بولنگ کر کے پاکستانی مڈل آرڈر کو کھل کر کھیلنے نہیں دیا، جس سے مطلوبہ رن ریٹ قابو سے باہر ہو گیا اور یہی اس ہائی پریشر میچ کا سب سے فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔