مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما طلال چوہدری نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے پسِ پردہ حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے تحریک انصاف اور کے پی حکومت کی قيادت بالخصوص سہیل آفریدی کے منفی کردار کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔
طلال چوہدری نے دو ٹوک الفاظ میں انکشاف کیا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے دوران 4 مرتبہ مکمل معاہدے پر اتفاق ہوا اور تمام تر نقطہ ہائے نظر پر باتیں طے پا چکی تھیں۔
تاہم، ہر بار حتمی مرحلے پر پشاور اور کے پی کی اعلیٰ قیادت سے ڈکٹیشن ملتے ہی پی ٹی آئی کے مذاکرات کار مکمل طور پر بے بس اور لاچار نظر آئے اور طے شدہ نکات سے مکر گئے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس تمام ڈیڈ لاک کی اصل اور بنیادی وجہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون نہ کرنا ہے۔
پی ٹی آئی اور خیبر پختونخوا کی انتظامیہ قومی سلامتی اور امن و امان کی بحالی کے لیے ریاستی اقدامات کا ساتھ دینے سے مسلسل راہِ فرار اختیار کر رہی ہے۔
طلال چوہدری کے مطابق، پی ٹی آئی مذاکراتی ٹیم کی تمام تر ڈوریاں پشاور میں بیٹھے انتشاری عناصر اور سہیل آفریدی کے ہاتھ میں ہیں جو ملک میں امن اور استحکام کے بجائے صرف اپنے سیاسی مفادات اور انارکی کی پالیسی کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔