امریکی ریاست کیلیفورنیا میں کم عمری کی شادی کے خلاف بڑا قانون منظور کرلیا گیا ہے۔ نئے قانون کے تحت 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی پر مکمل پابندی ہوگی۔
یکم جنوری 2027 سے کیلیفورنیا میں شادی کے لیے عمر 18 سال ہونا لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ گورنر کی جانب سے بل پر دستخط کے بعد قانون کی منظوری مکمل ہوگئی۔
بچوں کا تحفظ
غیر ملکی میڈیا کے مطابق کیلیفورنیا امریکا کی اٹھارہویں ریاست بن گئی ہے جہاں شادی کی قانونی عمر 18 سال مقرر ہے۔ نئی قانون سازی کا مقصد نابالغ افراد کی شادی کے قانونی راستے کو ختم کرنا ہے۔
ماہرین اور کم عمری کی شادی کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے طویل عرصے سے ایسے قوانین کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ نئی پابندی کے بعد نابالغ افراد کو شادی سے متعلق قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔
والدین کی اجازت ختم
نئے قانون سے پہلے کیلیفورنیا میں نابالغ افراد مخصوص قانونی طریقہ کار کے ذریعے شادی کرسکتے تھے۔ والدین کی رضامندی کے بعد عدالت سے شادی کی اجازت حاصل کی جاسکتی تھی۔
نئے قانون کے نفاذ کے بعد یہ راستہ ختم ہوجائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ والدین کی رضامندی بھی 18 سال سے کم عمر فرد کی شادی کے لیے کافی نہیں ہوگی۔
دیگر ریاستیں
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا کی 32 ریاستوں میں اب بھی مختلف حالات میں کم عمری کی شادی کی اجازت موجود ہے۔ کیلیفورنیا کی نئی قانون سازی اس حوالے سے ایک نمایاں تبدیلی ہے۔
کم عمری کی شادی کے خلاف مہم چلانے والی تنظیم اَن چینڈ ایٹ لاسٹ کے مطابق کیلیفورنیا میں ہر سال تقریباً 9 ہزار بچوں کی شادیاں ہوتی ہیں۔
تنظیم کے مطابق کم عمری کی شادی روکنے کے لیے قانونی اصلاحات ضروری ہیں۔ نئے قانون کے بعد کیلیفورنیا میں نابالغ افراد کی شادی کا قانونی راستہ ختم ہوجائے گا۔
نیا قانون کب نافذ ہوگا؟
کیلیفورنیا میں منظور ہونے والا نیا قانون یکم جنوری 2027 سے نافذ ہوگا۔ اس کے بعد 18 سال سے کم عمر افراد ریاست میں قانونی طور پر شادی نہیں کرسکیں گے۔
یہ قانون بچوں کے تحفظ اور کم عمری کی شادی سے متعلق امریکا میں جاری بحث کو بھی نئی سمت دے سکتا ہے۔ کیلیفورنیا میں اب شادی کی قانونی عمر کے حوالے سے کوئی استثنا باقی نہیں رہے گا۔