پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات اور قیادت کے فیصلوں پر کارکنوں کا غصہ کھل کر سامنے آگیا ہے۔
احتجاج اور لانگ مارچ کا اعلان کرنے کے بعد اسے اچانک منسوخ یا مؤخر کیے جانے پر کارکنوں نے شدید ردعمل دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ناراض کارکنوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف نعرے بازی کی اور اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
ذرائع اور منظر عام پر آنے والی ویڈیوز کے مطابق لانگ مارچ مؤخر کرنے کے فیصلے پر پی ٹی آئی کارکن شدید ناراض دکھائی دیے۔ کارکنوں نے نعرے بازی کی اور قیادت کے فیصلے پر اپنے غصے کا اظہار کیا۔
سہیل آفریدی نے آج عمران خان کو مکمل تنہا کر دیا ، وزیراعلی خیبر پختونخوا ، علی امین گنڈاپور پارٹ ٹو ثابت ہوئے ، پی ٹی آئی کارکنان بھی مایوس ہو گئے
مشتعل کارکنوں کی جانب سے سہیل آفریدی کے خلاف بھی نعرے لگائے گئے۔ کارکنوں کا مؤقف تھا کہ قیادت احتجاج اور اسلام آباد مارچ کی کال دیتی ہے لیکن بعد میں فیصلہ تبدیل کردیا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس صورتحال نے کارکنوں میں بے چینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ بار بار احتجاج کی کال واپس لینے سے نچلی سطح پر پارٹی کارکنوں کا اعتماد متاثر ہو رہا ہے۔
پی ٹی آئی کارکنوں کے ردعمل نے پارٹی قیادت کے فیصلوں پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ کارکنوں کی جانب سے مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے اعلانات اور پھر ان میں تبدیلی پر تحفظات سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :24 نومبر کے احتجاج سے قبل پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن شروع


