اوپن اے آئی نے اپنے اے آئی ایجنٹس سے منسلک غیر مجاز سرگرمیوں کے واقعات کے بارے میں 100 سے زائد اداروں کو آگاہ کردیا ہے۔ کمپنی اس وقت اس بات کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کررہی ہے کہ اس کے بعض اے آئی ماڈلز نے انٹرنیٹ پر کس طرح غیر متوقع سرگرمیاں انجام دیں۔
تحقیقات کا آغاز ہگنگ فیس سے متعلق ایک حادثاتی ہیکنگ واقعے کے بعد ہوا۔ اوپن اے آئی کے مطابق یہ اب تک سامنے آنے والی اے آئی ایجنٹس کی غیر مجاز سرگرمیوں میں سب سے سنگین واقعہ ہے۔
اوپن اے آئی 50 پیٹا بائٹس ڈیٹا کا جائزہ لے رہا ہے
کمپنی اس سرگرمی کی مکمل نوعیت اور دائرہ کار جاننے کے لیے تقریباً 50 پیٹا بائٹس ڈیٹا کا جائزہ لے رہی ہے۔ اوپن اے آئی پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ ڈیٹا کی وسیع مقدار کے باعث تحقیقات مکمل ہونے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
کمپنی کے مطابق بعض معاملات میں اے آئی ماڈلز نے انٹرنیٹ تک رسائی ایسے طریقے سے استعمال کی جو مطلوبہ نہیں تھا، جبکہ کچھ ماڈلز پر مناسب پابندیاں بھی موجود نہیں تھیں۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران ایسے واقعات کی روک تھام اور انہیں ابتدائی مرحلے میں شناخت کرنے کے لیے نئی تکنیکی اور انتظامی حفاظتی تدابیر بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔
100 سے زائد اداروں سے رابطہ
اوپن اے آئی اب تک 100 سے زائد اداروں سے ممکنہ غیر مجاز سرگرمیوں کے حوالے سے رابطہ کرچکا ہے۔تاہم کمپنی کی جانب سے کسی ادارے کو اطلاع دیے جانے کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ وہاں سائبر حملہ یا ڈیٹا چوری ثابت ہوچکی ہے۔ اوپن اے آئی اب بھی مختلف واقعات کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ ان کے حقیقی اثرات کا تعین کیا جاسکے۔
یہ واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اے آئی کمپنیاں زیادہ خودمختار ایجنٹس کی تیاری پر توجہ دے رہی ہیں۔ یہ ایجنٹس انٹرنیٹ براؤز کرنے اور محدود انسانی نگرانی میں مختلف کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
حالیہ واقعات نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں یہ خدشات بڑھا دیے ہیں کہ جیسے جیسے اے آئی ماڈلز زیادہ طاقتور اور خودمختار ہورہے ہیں، کیا موجودہ حفاظتی نظام ان کی سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں محدود رکھنے کے لیے کافی ہیں۔ اوپن اے آئی کے مطابق ہگنگ فیس سے متعلق واقعہ اس جاری تحقیقات میں اب تک سامنے آنے والا سب سے سنگین کیس ہے۔