خیبر پختونخوا حکومت دہشتگردی کے خلاف وفاق سے تعاون نہیں کر رہی، طارق فضل چوہدری

خیبر پختونخوا  حکومت دہشتگردی کے خلاف وفاق سے تعاون نہیں کر رہی، طارق فضل چوہدری

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے خیبرپختونخوا حکومت پر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں وفاق کے ساتھ تعاون نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں موجودہ صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت ایمرجنسی نافذ کرنے کے آپشن پر غور کر رہی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کا دہشتگردی کے خلاف قومی کوششوں سے الگ رہنا صورتحال اور ریاستی اقدامات کیلئے نقصان دہ ثابت ہورہا ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت ریاستی اداروں کے ساتھ بھی کھڑی نہیں ہو رہی جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی دہشتگردی کی روک تھام کی کوششوں میں تعاون نہیں کر رہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ افغانستان سے متعلق پاکستان کی پالیسی پر 3 صوبے عمل پیرا ہیں، تاہم خیبرپختونخوا حکومت اس معاملے میں وفاق کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی۔

طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ اس سے قبل بھی وہ کہہ چکے ہیں کہ ممکنہ ایمرجنسی یا گورنر راج کا معاملہ صوبے کی بگڑتی سیکیورٹی صورتحال سے متعلق ہے اور اسے صرف پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے منسلک نہیں کیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کا مارچ کے پی میں ہی گول گول گھومتا رہے گا ، اختیار ولی نے کچا چٹھا کھول دیا

انہوں نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان حالیہ مذاکرات کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت 2 بڑی وجوہات کی بنا پر آگے نہیں بڑھ سکی۔ پہلی وجہ یہ تھی کہ اپوزیشن وفد کے پاس فیصلہ سازی کا مکمل اختیار نہیں تھا اور اصل اختیار خیبرپختونخوا حکومت کے پاس تھا۔

ان کے مطابق مذاکرات میں شامل افراد نے خود بتایا کہ بعض مطالبات پورے کرنا ان کے اختیار میں نہیں۔ دوسری وجہ فریقین کی ترجیحات میں فرق تھا۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی کی ترجیح سیاست اور بانی پی ٹی آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ان کے سیاسی مخالف ضرور ہیں تاہم ان کی ان سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں اور ماضی میں ان سے ملاقاتیں بھی ہوتی رہی ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں، تاہم انہیں مستقبل قریب میں مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان نظر نہیں آتا۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا کے عوام نے انتشاری سیاست کو مسترد کردیا ، سہیل آفریدی کا خالی کرسیوں سے خطاب، گانڈی چوک میں صرف چند درجن کارکن موجود

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کسی صورت اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان سیکیورٹی صورتحال اور پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے معاملے پر سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔ حالیہ حکومتی و اپوزیشن مذاکرات بھی اہم نکات پر اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث ڈیڈلاک کا شکار ہوگئے تھے۔

Related Articles