سال 2026 کا طب کا نوبیل انعام دماغی افعال اور ’آپٹوجینیٹکس‘ پر تہلکہ خیز تحقیق کرنے والے 3 عالمی سائنسدانوں کو مشترکہ طور پر دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان ماہرین نے روشنی کے ذریعے دماغی خلیات کو کنٹرول کر کے انسانی یادوں اور احساسات کو سمجھنے کی انقلابی تکنیک وضع کی ہے۔
طب کے اس اعلیٰ ترین اعزاز کے حقدار قرار پانے والوں میں 2 ماہرین کا تعلق جرمنی جبکہ ایک کا امریکا سے ہے۔ نوبیل کمیٹی کے جاری کردہ بیان کے مطابق امریکی سائنسدان کارل ڈیسروتھ اور جرمن ماہرین پیٹر ہیگمین اور جارج ناگل نے مشترکہ طور پر یہ انعام جیتا ہے۔
ان سائنسدانوں نے ’آپٹوجینیٹکس‘ یعنی دماغی اعصابی خلیات اور روشنی سے جڑے جینز پر انتہائی باریک بینی سے کام کرتے ہوئے روشنی جذب کرنے والے پروٹینز کی تفصیلات دنیا کے سامنے پیش کیں۔
جرمن سائنسدانوں پیٹر ہیگمین اور جارج ناگل نے تحقیق کے دوران ایک مخصوص پروٹین ’چینل روڈاپسن‘ دریافت کیا تھا۔
بعد ازاں امریکی سائنسدان کارل ڈیسروتھ نے اس پروٹین کو اعصابی خلیات کے لیے ایک لائٹ کنٹرول سوئچ میں تبدیل کر دیا، جس سے پہلی بار یہ جاننا ممکن ہو سکا کہ انسانی دماغ کس طرح یادوں کو محفوظ کرتا ہے اور مختلف رویوں کو مرتب کرتا ہے۔
انعامی رقم اور آئندہ کے اعلانات
رواں سال طب کا نوبیل انعام جیتنے والے ان تینوں سائنسدانوں میں 1 کروڑ 20 لاکھ سویڈش کرونا کی خطیر رقم برابر تقسیم کی جائے گی۔ طب کے بعد نوبیل سیزن کے دیگر انعامات کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔
جاری کردہ شیڈول کے مطابق 6 اکتوبر کو فزکس، 7 اکتوبر کو کیمسٹری اور 8 اکتوبر کو ادب کے نوبیل انعام کے فاتحین کا اعلان کیا جائے گا۔ اسی طرح امن کے نوبیل انعام کا اعلان 9 اکتوبر جبکہ معیشت کے فاتح کا اعلان 12 اکتوبر کو کیا جائے گا۔
نوبیل انعام برائے طب ہمیشہ سے انسانی جسم کی پیچیدگیوں کو سلجھانے والوں کے نام رہا ہے۔ اس سے قبل سال 2024 میں بھی نوبیل کمیٹی نے انسانی مدافعتی نظام کے افعال کے بارے میں اہم ترین تفصیلات سامنے لانے والے 3 سائنسدانوں کو اس باوقار انعام سے نوازا تھا۔
سائنسی و طبی اہمیت اور اثرات کا جائزہ
روشنی کی مدد سے دماغی خلیات کو متحرک یا خاموش کرنے کی یہ تکنیک، جسے سائنسی اصطلاح میں ’آپٹوجینیٹکس‘ کہا جاتا ہے، جدید نیورو سائنس میں ایک غیر معمولی سنگِ میل ہے۔
اس دریافت نے اعصابی سائنس کے اس بنیادی سوال کا جواب دیا ہے کہ اربوں نیورونز کا جال کس طرح ایک پیچیدہ انسانی رویے کو جنم دیتا ہے۔
اس تکنیک کی بدولت اب لیبارٹریز میں دماغ کے ان حصوں کی نشاندہی انتہائی درستگی سے کی جا سکتی ہے جو خوف، خوشی، اور یادداشت کے ذمہ دار ہیں۔
مستقبل قریب میں اس تحقیق کے ثمرات براہِ راست ان مریضوں تک پہنچیں گے جو الزائمر، پارکنسنز یا ڈپریشن جیسے پیچیدہ دماغی امراض کا شکار ہیں۔
یہ پیش رفت محض ایک سائنسی دریافت نہیں، بلکہ انسانی دماغ کے خلیات کو سمجھ کر لاعلاج بیماریوں کو شکست دینے اور انسانی ذہن کی پیچیدگیوں کو ڈی کوڈ کرنے کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔