عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے افغان طالبان کے سربراہ ہبت اللہ اخوندزادہ، چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی، وزیر تعلیم حبیب اللہ آغا اور وزیر برائے اعلیٰ تعلیم ندا محمد ندیم کے خلاف جاری کیے گئے گرفتاری وارنٹس عوام کے لیے جاری کردیے۔
آئی سی سی کے مطابق ہبت اللہ اخوندزادہ اور عبدالحکیم حقانی کے گرفتاری وارنٹس 8 جولائی 2025 کو جاری کیے گئے تھے جبکہ حبیب اللہ آغا اور ندا محمد ندیم کے وارنٹس 9 ستمبر 2025 کو جاری کیے گئے۔
عدالت کے مطابق طالبان رہنماؤں کی جانب سے خواتین کو منظم طور پر بنیادی حقوق اور آزادیوں سے محروم کیے جانے کے شواہد موجود ہیں۔ افغان خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم، نقل و حرکت، اظہار رائے اور خاندانی زندگی سمیت بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر کامیاب فضائی اور ڈرون حملے
آئی سی سی نے کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی حمایت کرنے والوں کو بھی سیاسی مخالف سمجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ گرفتاری وارنٹس کو عوامی کرنے کا مقصد مزید جرائم کی روک تھام اور عالمی تعاون میں اضافہ کرنا ہے۔
عدالت کے مطابق مذکورہ طالبان رہنماؤں نے ایسی حکومتی پالیسی نافذ کی جس کے نتیجے میں افغانستان کی شہری آبادی کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں، جن میں قتل، قید، تشدد، جنسی زیادتی اور جبری گمشدگی جیسے سنگین جرائم شامل ہیں۔


