پی ٹی آئی کا لانگ مارچ مکمل ناکام،اسلام آباد پہنچنے کی پوزیشن میں نہیں،رانا ثنا اللہ

پی ٹی آئی کا لانگ مارچ مکمل ناکام،اسلام آباد پہنچنے کی پوزیشن میں نہیں،رانا ثنا اللہ

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ حکومت نے تحریک انصاف کو واضح طور پر کہا تھا کہ لانگ مارچ ختم کریں، اس کے بعد بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا معاملہ حل ہوجائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے بانی پی ٹی آئی کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ناکام رہا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ روز لانگ مارچ میں صرف 3 سے 4 ہزار افراد موجود تھے اور اگر بڑی تعداد میں لوگ اسلام آباد پہنچنے کی پوزیشن میں ہی نہیں تو وہاں آکر کیا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ لکی مروت سے مارچ کے روانہ ہونے کے بعد جو صورتحال گزشتہ روز تھی، آج بھی وہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لاکھوں افراد کی جگہ 2 ہزار افراد بھی نہ ہوں تو پی ٹی آئی کے لیے اسلام آباد پہنچ کر کوئی بڑا سیاسی دباؤ پیدا کرنا ممکن نہیں۔

ملاقات کی یقین دہانی

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کو بتایا تھا کہ جیل مینوئل کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں شروع ہوجائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے یہ بھی بتایا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کی جارہی ہیں،ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے لیے لندن سے ڈاکٹر بھی بلوایا گیا تھا اور یہ اقدام قانون کے مطابق کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو شفا اسپتال بھیجنے کا فیصلہ کسی کی ذاتی ضد نہیں تھا۔

مذاکرات جاری تھے

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ مذاکرات سے پہلے بھی حکومت کے پی ٹی آئی سے رابطے موجود تھے اور اب بھی بعض لوگوں سے اچھے تعلقات قائم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے کبھی نہیں چاہا کہ تحریک انصاف کے ساتھ دشمنی والا تعلق ہو۔

یہ بھی پڑھیں :کوہاٹ، پی ٹی آئی لانگ مارچ کا قاگلہ لاچی بازار عبور کرگیا، کارکن کی تعداد دو ہزار سے تجاوز نہ کرسکی، قیادت پریشان

انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ صدر اور وزیراعظم نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ ڈرافٹ فائنل ہونے کے بعد تحریک انصاف نے سہیل آفریدی کے علاوہ محمود اچکزئی اور دیگر رہنماؤں سے بھی مشاورت کی۔

دہشتگردی کے خلاف پالیسی

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پاکستان پر دہشتگردی کی جنگ مسلط کرنے میں بھارت، اسرائیل اور افغانستان کا ہاتھ ہے۔ ان کے مطابق دہشتگردی کے خلاف پالیسی بنانا وفاقی حکومت کا اختیار ہے اور تمام اداروں کا فرض ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف وفاقی حکومت کے ساتھ کھڑے ہوں،انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی تھی کہ پی ٹی آئی بھی دہشتگردی کے خلاف اپنا کردار ادا کرے، اسی مقصد کے لیے اس کے ساتھ مذاکرات کیے گئے۔

خیبرپختونخوا کی صورتحال

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا میں اندر ہی اندر حکومت تبدیل نہیں کرنا چاہتی۔ تاہم اگر صوبائی حکومت ان ہی سرگرمیوں میں مصروف رہتی ہے تو پھر ایمرجنسی کے نفاذ کی ضرورت پیدا ہوسکتی ہے،ان کا کہنا تھا کہ اگر خیبرپختونخوا حکومت اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرے تو اس سے اچھی بات کوئی نہیں ہوگی۔

مولانا فضل الرحمان سے رابطہ

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی سیاسی اہمیت ہے اور انہیں اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق پیپلزپارٹی بھی مکمل طور پر حکومت کے ساتھ آن بورڈ ہے،انہوں نے بتایا کہ بلاول بھٹو کا مؤقف تھا کہ مذاکرات شروع کرنے سے پہلے لانگ مارچ ختم کروایا جائے۔ حکومت نے اس پر کہا کہ بیٹھ کر مذاکرات کیے جائیں، باقی معاملات طے ہونے کے ساتھ لانگ مارچ کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔

پانچ اضلاع میں ایمرجنسی کی تیاری

رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے پانچ اضلاع میں ایمرجنسی کے لیے تیار تھی۔ ان کے مطابق حکومت نے مذاکرات کے ذریعے صورتحال کو حل کرنے کی کوشش کی اور پی ٹی آئی کے بعض لوگوں سے رابطے اب بھی موجود ہیں۔

انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ حکومت پی ٹی آئی کے ساتھ سیاسی اختلافات کو دشمنی میں تبدیل نہیں کرنا چاہتی، تاہم دہشتگردی کے خلاف وفاقی پالیسی اور صوبائی حکومتوں کی آئینی ذمہ داریوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔

editor

Related Articles