تلخ حقیقت، پشاور،مردان،سوات،ایبٹ آباد،ہری پوراورمانسہرہ کا لانگ مارچ میں شرکت سے انکار

تلخ حقیقت، پشاور،مردان،سوات،ایبٹ آباد،ہری پوراورمانسہرہ کا لانگ مارچ میں شرکت سے انکار

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں شروع ہونے والا لانگ مارچ صوبے بھر میں شدید عوامی عدم دلچسپی اور تنظیمی ناکامی کے باعث اپنی موت آپ مرنے لگا ہے، 40 لاکھ افراد کو سڑکوں پر لانے کے بلند و بانگ اعلانات کا غبار اب چھٹ چکا ہے اور اپنے ہی صوبے کے ہر اہم اور بڑے شہر میں مارچ کو شدید بے رخی کا سامنا ہے۔

 حالت یہ ہو چکی ہے کہ نہ صرف عام عوام بلکہ پارٹی کے اپنے کارکنان نے بھی سڑکوں پر نکلنے سے صاف انکار کر دیا ہے، جبکہ عوامی غصے اور ناکامی کا سامنا نہ کر پانے کی وجہ سے صوبے بھر میں مقامی قیادت بھی راہِ فرار اختیار کرتی نظر آ رہی ہے۔

 مالاکنڈ اور جنوبی اضلاع تک: مکمل عدم دلچسپی

لکی مروت کے علاقے گنڈی، کرک کے جیل چوک اور لاچی کے گراؤنڈ سے شروع ہونے والا یہ منفی تاثر اب پورے خیبرپختونخوا میں پھیل چکا ہے،پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ، چارسدہ، سوات، ایبٹ آباد، ہری پور، مانسہرہ، بنوں، کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان جیسے صوبے کے تمام اہم ترین معاشی و سیاسی مراکز میں عوام اور کارکنان نے اس احتجاجی سیاست کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

 ہر پڑاؤ پر قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا کہ اگلے اضلاع اور بڑے شہروں سے عوام کا سمندر قافلے کا حصہ بنے گا، لیکن گراؤنڈ کی حقیقت یہ ہے کہ تمام اضلاع میں متوقع شرکاء کا وجود ہی غائب ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے مناظر اور مقامی رپورٹس نے ان تمام دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔

مقامی قیادت کا راہِ فرار اور کارکنان کا برہم ردعمل

اس مارچ میں سب سے بڑا بحران اس وقت پیدا ہوا جب کارکنان اور شہریوں سے کیے گئے وعدے ایفا نہ ہو سکے۔ صوبے بھر سے لائے گئے لوگوں سے کھانے پینے، سفری سہولیات اور دیگر جو وعدے کیے گئے تھے، وہ دھرے کے دھرے رہ گئے۔

یہ بھی پڑھیں :کوہاٹ، پی ٹی آئی لانگ مارچ کا قاگلہ لاچی بازار عبور کرگیا، کارکن کی تعداد دو ہزار سے تجاوز نہ کرسکی، قیادت پریشان

گراؤنڈ پر صورتحال یہ ہے کہ مرکزی قیادت اور وزراء اپنی ایئرکنڈیشنڈ گاڑیوں میں سفر کر رہے ہیں جبکہ سڑکوں پر موجود عوام اور کارکنان شدید مشکلات اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث خوار ہو رہے ہیں۔

اس صورتحال پر کارکنان نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قیادت پر لعن طعن شروع کر دی ہے۔ عوامی غصے سے بچنے اور کارکنان کے سخت سوالات کا جواب نہ ہونے کے باعث پشاور، ایبٹ آباد، سوات اور دیگر بڑے شہروں میں مقامی عہدیدار اور رہنما اپنے فون بند کر کے راہِ فرار اختیار کر چکے ہیں اور قافلوں کی قیادت کے لیے سامنے آنے سے گریزاں ہیں۔

دیہاڑی کے الزامات اور نعروں سے بیزاری

مقامی سطح پر سامنے آنے والے الزامات نے اس مارچ کے تنظیمی ڈھانچے پر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے یہ خبریں بھی شدت کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں کہ سڑکوں پر تعداد دکھانے کے لیے لوگوں کو دیہاڑی کی بنیاد پر لایا گیا تھا، اور جب انہیں طے شدہ معاوضے کی ادائیگی نہ ہوئی تو اکثریت نے فوراً واپس لوٹنے میں ہی بہتری سمجھی۔

 پشاور سے لے کر ہزارہ ڈویژن اور ملاکنڈ تا جنوبی اضلاع کے شہریوں کا دوٹوک کہنا ہے کہ وہ اب بار بار کے کھوکھلے سیاسی بیانیے اور سڑکوں کی بندش سے تنگ آ چکے ہیں۔ شہریوں کا واضح پیغام ہے کہ “نعروں اور تقریروں سے پیٹ نہیں بھرتا”، عوام کی اولین ترجیح اپنے بچوں کا پیٹ پالنا، روزگار کا حصول اور علاقے میں امن و امان کی بحالی ہے، جس پر وہ کسی سیاسی سرگرمی کو قربان نہیں کر سکتے۔

سیاسی قیادت کے لیے بڑا چیلنج

خیبرپختونخوا کے تمام اہم ترین شہروں کے عوام، نچلی سطح کے کارکنان اور خود مقامی قیادت کا یہ رویہ لانگ مارچ کے منتظمین اور بالخصوص وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے ایک بہت بڑا سیاسی دھچکا ثابت ہوا ہے۔ صوبے کے تمام بڑے اور اہم اضلاع سے سامنے آنے والے بائیکاٹ اور روگردانی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب عوام کی حمایت کو بلامعاوضہ یا یقینی تصور نہیں کیا جا سکتا۔

 اگرچہ مرکزی قافلہ سڑکوں پر پیش قدمی کی کوشش کر رہا ہے، لیکن صوبے بھر کی یہ کھلی بے رخی اور بکھرتا ہوا تنظیمی ڈھانچہ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ قیادت کو بڑے اعلانات کی دنیا سے باہر نکل کر گراؤنڈ پر عوام کا کھویا ہوا اعتماد بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

editor

Related Articles