خیبرپختونخوا کی موجودہ سیاسی اور امن و امان کی صورتحال پر مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان اہم مشاورت ہوئی ہے، جس میں صوبے کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف آئینی اور قانونی راستوں پر غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کی قانونی ٹیموں نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج سمیت مختلف آپشنز کا جائزہ لیا۔ مشاورت کا مقصد ممکنہ اقدامات کے لیے درکار آئینی اور قانونی تقاضوں کا جائزہ لینا تھا۔
فاروق نائیک اور تارڑ کی مشاورت
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے رہنما اور قانونی ماہر فاروق ایچ نائیک جبکہ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے متعلقہ قانونی نکات اور آئینی تقاضوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا،دونوں جانب سے اس امر کا جائزہ لیا گیا کہ خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال میں آئین کے تحت دستیاب کون سے راستے اختیار کیے جاسکتے ہیں اور کسی بھی ممکنہ اقدام کے لیے کیا قانونی مراحل مکمل کرنا ضروری ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق اٹارنی جنرل پاکستان نے بھی قانونی مشاورت میں معاونت فراہم کی۔ اس دوران مختلف آئینی پہلوؤں اور ممکنہ حکومتی اقدامات کے قانونی دائرہ کار پر غور کیا گیا،مشاورت میں گورنر راج کے علاوہ دیگر آپشنز بھی زیر غور آئے، تاہم دستیاب اطلاعات کے مطابق اس مشاورت کو کسی حتمی فیصلے کے طور پر بیان نہیں کیا گیا۔
خیبرپختونخوا کی صورتحال کے حوالے سے وفاقی سطح پر اس سے قبل بھی گورنر راج، ایمرجنسی اور دیگر آئینی راستوں پر مشاورت سامنے آ چکی ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ایسے اقدامات کے لیے آئینی اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
سیاسی صورتحال
تازہ مشاورت سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال پر حکومتی اتحاد میں سیاسی کے ساتھ ساتھ قانونی سطح پر بھی غور جاری ہے۔ تاہم آئندہ لائحہ عمل اور کسی ممکنہ آئینی اقدام کے بارے میں حتمی فیصلہ متعلقہ آئینی اختیار رکھنے والے فورمز پر ہوگا۔