مردہ ستارے کی راکھ سے بنا سیارہ؟ ماہرین فلکیات کی حیران کن دریافت

مردہ ستارے کی راکھ سے بنا سیارہ؟ ماہرین فلکیات کی حیران کن دریافت

ماہرین فلکیات نے ایک ایسے سیارے کی ممکنہ دریافت کی ہے جو بظاہر ایک دم توڑتے ہوئے ستارے سے خارج ہونے والے مادے سے بنا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق یہ ممکنہ طور پر اپنی نوعیت کا پہلا دوسری نسل کا سیارہ ہے جو ایک وائٹ ڈوارف یعنی مردہ ستارے کے گرد گردش کر رہا ہے۔

یونیورسٹی آف واروک کے پی ایچ ڈی طالب علم جیمی ولیمز کی سربراہی میں ہونے والی تحقیق کے مطابق دوسری نسل کے سیارے ان مادوں سے تشکیل پا سکتے ہیں جو کسی ستارے کی زندگی کے آخری مرحلے میں خارج ہوتے ہیں۔

جیمی ولیمز کے مطابق ایسے سیارے انتہائی نایاب سمجھے جاتے ہیں اور وائٹ ڈوارف کے گرد ان کی موجودگی غیر متوقع ہے۔ آسان الفاظ میں یہ ایسا سیارہ ہو سکتا ہے جو ایک ایسے ستارے کی باقیات سے بنا ہو جس کے گرد کبھی وہ خود گردش کرتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:آپ کا فون پرانا ہے؟ واٹس ایپ جلد “لاگ ان” ہی نہیں ہونے دے گا!

اس سے قبل ماہرین فلکیات نے پلسرز، یعنی انتہائی طاقتور مردہ ستاروں کے گرد بھی ایسے ممکنہ دوبارہ بننے والے سیاروں کے شواہد دیکھے تھے۔ تاہم وائٹ ڈوارف کے گرد اس نوعیت کے سیارے کے شواہد پہلی مرتبہ سامنے آئے ہیں۔

دریافت کیوں اہم ہے؟

سائنس دانوں کے مطابق وائٹ ڈوارف کائنات میں پلسرز کے مقابلے میں کہیں زیادہ عام ہیں۔ اگر مزید مشاہدات سے اس ممکنہ سیارے کی تصدیق ہوجاتی ہے تو اس سے یہ خیال مضبوط ہوسکتا ہے کہ کائنات میں دوسری نسل کے سیارے پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ تعداد میں موجود ہیں۔

تحقیق نے ماہرین کے سامنے سیاروں کی تشکیل اور ستاروں کی موت کے بعد ان کے گرد نئے سیاروں کے بننے سے متعلق ایک نیا سوال بھی کھڑا کردیا ہے۔

editor

Related Articles