خیبر پختونخوا حکومت پر عوامی مسائل نظر انداز کر کے صوبائی وسائل کو احتجاج کی نذر کرنے کے الزامات کے دوران، خود وزیراعلیٰ کے آبائی ضلع خیبر میں 7 سالہ بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت پر یہ الزامات ثابت ہو گئے ہیں کہ اس نے صوبے کے بنیادی مسائل کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کے مالیاتی اور سیکیورٹی سکینڈ لز بے نقاب، اختیار ولی نے بڑا دعویٰ کردیا
رپورٹ کے مطابق حکومت محض ایک شخص کی سیاسی بقا اور رہائی کے لیے صوبے کے تمام وسائل اور انتظامی مشینری کو لانگ مارچوں اور احتجاج میں جھونک رہی ہے۔
عوامی صحت اور فلاح و بہبود سے عدم توجہی کی اس دردناک صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ خود وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے آبائی ضلع خیبر میں پولیو جیسا موذی مرض سر اٹھا رہا ہے۔
نئے پولیو کیس کی تفصیلات اور اعداد و شمار
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) کے حکام نے ضلع خیبر میں ایک نئے پولیو کیس کی تصدیق کی ہے۔ متاثرہ بچہ تحصیل جمرود کی یونین کونسل غنڈی اے کا رہائشی ہے اور اس کی عمر 7 سال بتائی جا رہی ہے۔
اس نئے کیس کے بعد رواں سال ملک بھر میں رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 6 ہو گئی ہے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ ان 6 کیسز میں سے 5 کا تعلق صرف صوبہ خیبر پختونخوا سے ہے۔
پولیو وائرس کا پھیلاؤ اور ہائی رسک علاقے
این ای او سی کے مطابق خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں پولیو وائرس کی منتقلی تاحال برقرار ہے اور حالات پر قابو پانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
صحت کے حکام نے موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر ضلع خیبر، صوبائی دارالحکومت پشاور اور خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع کو پولیو کے حوالے سے ’ہائی رسک‘ علاقے قرار دے دیا ہے۔
حکومتی اقدامات اور انسداد پولیو مہم
اس نئے کیس کے سامنے آنے کے بعد مقامی انتظامیہ اور محکمہ صحت میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ ضلع خیبر میں پولیو ویکسینیشن کے عمل کو مزید مؤثر بنانے اور ہنگامی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکام ان ہائی رسک علاقوں میں بچوں کو قطروں کے ساتھ ساتھ انجکشن کے ذریعے بھی پولیو ویکسین لگانے کی ایک وسیع مہم کی تیاریاں کر رہے ہیں۔
این ای او سی حکام نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ اس قومی ذمے داری کو محسوس کریں اور پولیو کے خاتمے کے لیے اپنے بچوں کو ویکسین کی تمام تجویز کردہ خوراکیں لازمی پلوائیں۔
امن و امان اور سیاسی عدم استحکام کا اثر
خیبر پختونخوا طویل عرصے سے سیاسی افراتفری، سیکیورٹی چیلنجز اور دہشتگردی کے خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔ ماضی میں بھی پولیو ورکرز پر حملے اور حفاظتی ٹیکوں کے خلاف منفی پروپیگنڈا پولیو کے خاتمے کی کوششوں کو نقصان پہنچاتا رہا ہے۔
تاہم موجودہ دور میں انتظامیہ کی توجہ سیاسی مہم جوئی پر مرکوز ہونے کی وجہ سے محکمہ صحت جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
انتظامی غفلت اور سیاسی بیانیے
کسی بھی صوبائی حکومت کی اولین ذمے داری اس کے عوام کی جان و مال اور صحت کا تحفظ ہوتی ہے۔ جب صوبے کا اعلیٰ ترین انتظامی سربراہ اپنے ہی ضلعے کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھنے میں ناکام نظر آئے تو مجموعی حکومتی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔
پولیو کا ایک کیس بھی پوری دنیا میں ملک کی بدنامی کا باعث بنتا ہے اور سفری پابندیوں جیسے خطرات کو جنم دیتا ہے۔ سیاسی احتجاج اور وفاق سے محاذ آرائی کے لیے وسائل کا بے دریغ استعمال اور دوسری جانب صحت عامہ کی تباہ کن صورتحال، یہ ظاہر کرتی ہے کہ صوبے میں ترجیحات کا تعین عوامی مفاد کے بجائے خالصتاً سیاسی مقاصد کے تحت کیا جا رہا ہے۔
اگر حکومتی مشینری کا رخ فوری طور پر بنیادی مسائل کی جانب نہ موڑا گیا تو یہ صوبہ نہ صرف معاشی اور سیکیورٹی، بلکہ صحت کے ایک بڑے اور ناقابلِ واپسی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔