تیسرے دن دھرنے کا منظر بدل گیا، چند کارکن رہ گئے، قائدین اور ارکان اسمبلی غائب

تیسرے دن دھرنے کا منظر بدل گیا، چند کارکن رہ گئے، قائدین اور ارکان اسمبلی غائب

پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد کی جانب احتجاجی لانگ مارچ کا تیسرا روز شروع ہوگیا، تاہم کوہاٹ کے علاقے لاچی میں گزشتہ رات کے پڑاؤ کے دوران احتجاجی سرگرمیوں میں نمایاں کمی اور کارکنوں کے ساتھ قیادت کی موجودگی کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے۔

پی ٹی آئی کا قافلہ گزشتہ روز کرک سے ہوتا ہوا کوہاٹ پہنچا تھا جہاں لاچی میں رات گزارنے کا پروگرام تھا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وہاں موجود کارکنوں سے خطاب بھی کیا اور احتجاج کو طویل جدوجہد قرار دیتے ہوئے کارکنوں کو خود کو زیادہ تھکاوٹ سے بچانے کی ہدایت کی پارٹی کے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق قافلہ آج کوہاٹ سے پشاور کی طرف روانہ ہوگا۔

تاہم ذرائع کے مطابق رات گئے احتجاجی مقام پر موجود کارکنوں کی تعداد محدود رہی اور کارکنوں میں یہ سوال زیر بحث رہا کہ احتجاجی سرگرمی کے اگلے مرحلے کی قیادت کون کرے گا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ رات کے وقت احتجاجی مقام پر موجود کارکنوں کو نمایاں پارلیمانی قیادت کی وہ موجودگی نظر نہیں آئی جس کی توقع ایک بڑے سیاسی احتجاج کے دوران کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:تیل کی قیمتوں سے متعلق بڑی خوشخبری، قیمتیں اچانک گر گئیں

ذرائع کے مطابق بعض کارکن رات کے وقت احتجاجی مقام پر موجود رہے تاہم ان کے ساتھ پارٹی کے متعدد اہم رہنماؤں اور ارکان اسمبلی کی موجودگی دکھائی نہیں دی اس صورتحال نے کارکنوں میں قیادت کے طرزعمل اور احتجاجی حکمت عملی کے حوالے سے چہ مگوئیاں شروع کردیں۔

پی ٹی آئی کے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق آج کوہاٹ، ہنگو، کرم اور اورکزئی سے مزید شرکا قافلے میں شامل ہوں گے، جس کے بعد مارچ پشاور روانہ ہوگا۔ پشاور کے بعد قافلے کو چارسدہ اور خیرآباد کی جانب لے جانے کا منصوبہ ہے، جہاں 8 اکتوبر کو آئندہ مرحلے کے بارے میں اعلان کیا جائے گا۔

مارچ کے تیسرے دن کا اہم سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی قیادت کوہاٹ اور پشاور کے مرحلے میں کارکنوں کی بڑی تعداد جمع کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا گزشتہ رات کے محدود اجتماع کی صورتحال برقرار رہتی ہے۔ سیاسی طور پر یہ مرحلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ پارٹی نے خود آئندہ لائحہ عمل کا اعلان خیرآباد پہنچنے پر کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

دوسری جانب پشاور میں تاجروں کی جانب سے مارچ کے خلاف احتجاج بھی سامنے آیا ہے تاجروں کا مؤقف ہے کہ راستوں کی بندش اور احتجاجی سرگرمیوں سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

یوں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ تیسرے دن کوہاٹ سے پشاور کی طرف بڑھ رہا ہے لیکن رات کے پڑاؤ کے دوران کارکنوں اور پارلیمانی قیادت کی موجودگی کا معاملہ آنے والے مرحلے میں پارٹی کے لیے ایک اہم سیاسی سوال بن چکا ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles