پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے درمیان تاریخی نیاز اسٹیڈیم کا انتظام 20 سال کے لیے بورڈ کے حوالے کرنے کا باقاعدہ معاہدہ آج طے پا رہا ہے۔
اس طویل مدتی اقدام کا مقصد اسٹیڈیم کو جدید بین الاقوامی معیار کے مطابق اپ گریڈ کر کے یہاں پی ایس ایل اور انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی یقینی بنانا ہے۔
حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (ایچ ایم سی) کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس معاہدے کے تحت پی سی بی کارپوریشن کو 10,000 روپے ماہانہ کرایہ ادا کرے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ، اسٹیڈیم کے گیٹ سے حاصل ہونے والی ٹکٹوں کی آمدنی کا 20 فیصد حصہ بھی کارپوریشن کو دیا جائے گا۔
معاہدے کی رو سے اسٹیڈیم کی ملکیت حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے پاس ہی رہے گی، تاہم پی سی بی کو اس کے تمام تر انتظامی، تجارتی اور نشریاتی سرگرمیوں پر مکمل اور بلا شرکتِ غیرے کنٹرول حاصل ہوگا۔
اسٹیڈیم کی اپ گریڈیشن اور پی ایس ایل میچز کی نوید
ایچ ایم سی کا کہنا ہے کہ کرکٹ بورڈ اس معاہدے کے تحت میدان کو جدید بین الاقوامی معیار کے مطابق اپ گریڈ کرے گا۔ ان توسیعی کاموں کے بعد یہاں فرسٹ کلاس، بین الاقوامی سطح کے مقابلے اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے سنسنی خیز میچز کا انعقاد ممکن ہو سکے گا۔
حالیہ دنوں میں اس گراؤنڈ نے پاکستان کرکٹ کے منظر نامے پر ایک بار پھر اس وقت نمایاں مقام حاصل کیا، جب فروری 2026 میں اسی اسٹیڈیم میں ایک شاندار تقریب کے دوران پی ایس ایل کی 7 ویں فرنچائز کے باقاعدہ نام اور لوگو کی رونمائی کی گئی تھی، جس نے ٹورنامنٹ میں اس ٹیم کی باقاعدہ انٹری پر مہر ثبت کی۔
نیاز اسٹیڈیم کا شاندار کرکٹ
سال 1959 میں قائم ہونے والا نیاز اسٹیڈیم سندھ میں کرکٹ کا ایک اہم اور تاریخی مرکز رہا ہے۔ تقریباً 15,000 تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش والے اس گراؤنڈ میں پہلی بار 1962 میں فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی گئی۔
اس میدان نے 73-1972 کے سیزن میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ڈرا ہونے والے میچ کے ذریعے اپنے پہلے ٹیسٹ کی میزبانی کی۔
بعد ازاں یہاں مزید 4 ٹیسٹ میچز کھیلے گئے، جن میں کرکٹ کی تاریخ کا 1,000 واں ٹیسٹ بھی شامل ہے جو پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین 1984 میں کھیلا گیا تھا۔
مزید برآں 1987 کے ورلڈ کپ میں پاکستان اور سری لنکا کا میچ بھی اسی گراؤنڈ میں ہوا جس میں کھچا کھچ بھرے اسٹیڈیم کے سامنے میزبان ٹیم نے سنسنی خیز کامیابی حاصل کی تھی۔
زوال کا دور اور کنٹرول کی منتقلی
اپنے شاندار ماضی کے باوجود ناکافی سہولیات اور ٹیموں کے لیے رہائشی مسائل کے باعث اس گراؤنڈ کا بین الاقوامی درجہ وقت کے ساتھ گرتا چلا گیا۔
یہاں 98-1997 کے سیزن کے بعد ایک طویل عرصے تک کوئی ون ڈے میچ نہیں کھیلا گیا۔ تاہم، 2007 میں پی سی بی نے اس کی سہولیات کو اپ گریڈ کیا جس کے بعد جنوری 2008 میں پاکستان اور زمبابوے کے مابین ون ڈے میچ کھیلا گیا اور یوں حیدرآباد میں بین الاقوامی کرکٹ کا ایک دہائی پرانا انتظار ختم ہوا۔
یاد رہے کہ یہ گراؤنڈ 11 سال تک بورڈ کے زیرِ انتظام رہا لیکن 2 اپریل 2018 کو قاسم آباد میونسپل کمیٹی نے مفاہمت کی یادداشت منسوخ کر کے اس کا کنٹرول واپس لے لیا تھا۔
مستقبل کے امکانات اور کھیل پر اثرات
طویل عرصے بعد نیاز اسٹیڈیم کو دوبارہ کرکٹ بورڈ کی تحویل میں دینے کا یہ اقدام ملکی کرکٹ کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے انتہائی خوش آئند ہے۔
ماضی میں انتظامی اختیارات کی رسہ کشی اور فنڈز کی عدم دستیابی نے اس تاریخی گراؤنڈ کو ویران کر دیا تھا۔
اب جبکہ پی ایس ایل کا دائرہ کار وسیع ہو رہا ہے اور 7 ویں ٹیم سامنے آ چکی ہے، پی سی بی کے لیے یہ ناگزیر تھا کہ وہ ملک کے دیگر حصوں میں ایسے وینیوز تیار کرے جو مقامی شائقین کو اعلیٰ سطح کی کرکٹ براہِ راست دیکھنے کا موقع فراہم کر سکیں۔
بورڈ کا یہ قدم نہ صرف حیدرآباد کی مقامی معیشت کو سہارا دے گا بلکہ اندرون سندھ سے نئے ٹیلنٹ کی دریافت میں بھی ایک کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اگر اپ گریڈیشن کا عمل شفاف اور تیز رفتاری سے مکمل ہوتا ہے تو یہ میدان ایک بار پھر غیر ملکی ٹیموں کی میزبانی کے لیے ایک پرکشش انتخاب بن کر ابھرے گا۔