لانگ مارچ کا اسلام آباد پہنچنا آسان نہیں، کشت و خون سے گزرنا پڑے گا، سہیل وڑائچ

لانگ مارچ کا اسلام آباد پہنچنا  آسان نہیں، کشت و خون سے گزرنا پڑے گا، سہیل وڑائچ

سینئر صحافی، تجزیہ کار اور کالم نگار سہیل وڑائچ نے آزاد ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی ڈیڈ لاک 9 مئی سے چلا آرہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ہوں، معاہدہ ہو، ڈیل ہو یا کوئی اور معاملہ، مصالحت کے عمل میں دونوں فریقوں کو کچھ نہ کچھ پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔

پی ٹی آئی میں دو گروپ

سہیل وڑائچ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اندر دو گروپس ہیں،ایک گروپ چاہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح سسٹم کے ساتھ چل کر تبدیلی لانے کی کوشش کی جائے اور اگر ممکن ہو تو سسٹم میں شامل ہوا جائے، جبکہ دوسرا گروپ، جو زیادہ تر باہر بیٹھا ہوا اور انتہا پسند ہے، کسی بھی ایسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیتاان کے مطابق پوری تاریخ میں جارحانہ بیانیہ کامیاب ہوجاتا ہے، تاہم مصالحت کے معاملے میں بعض کارکنوں کو یہ خدشہ رہتا ہے کہ سمجھوتہ کرنا شکست تصور ہوگا۔

بینظیر اور نواز شریف کی مثال

سہیل وڑائچ نے کہا کہ بینظیر بھٹو نے مشرف کے ساتھ ڈیل کی اور پاکستان واپس آئیں، چاہے اس کا نتیجہ کچھ بھی نکلا۔ نواز شریف نے بھی مقتدرہ کے ساتھ ڈیل کی اور انہیں حکومت ملی،انہوں نے کہا کہ ان ڈیلز پر سیاسی جماعتوں کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور عام طور پر لوگ کہتے ہیں کہ سیاست دان اپنے مفادات کیلئے ایسا کرتے ہیں، لیکن سیاسی جماعتوں کا ایک طریقہ کار یہ بنتا ہے کہ مسائل سے نکلنے اور ملک کو چلانے اور بہتری کی طرف لے جانے کیلئے اگر سمجھوتہ بھی کرنا پڑے تو کرلینا چاہیے۔

ڈیل مشکل ہوتی ہے

انہوں نے کہا کہ دونوں کے لیے ڈیل کرنا مشکل تھا، تاہم سیاست میں بعض اوقات سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق اسی وجہ سے عمران خان بار بار کہتے رہے کہ وہ ڈیل نہیں کریں گے،انہوں نے بینظیر بھٹو کی کتاب ’ری کنسلی ایشن‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان جیسے ملک میں فوج اور سیاسی جماعتوں کی لڑائی برداشت نہیں کی جاسکتی۔

مسلم دنیا کی مثال

سہیل وڑائچ نے کہا کہ شام اور عراق میں کیا ہوا اور لبنان میں کیا ہورہا ہے، یہ سب سامنے ہے۔ مسلم دنیا کے اندر جہاں فوج اور سیاسی جماعتیں آپس میں لڑتی ہیں، نتیجہ اچھا نہیں ہوتا،ان کا کہنا تھا کہ وقتی طور پر سیاسی جماعتیں نیچے بھی چلی جائیں تو دوبارہ اوپر آجاتی ہیں۔ بینظیر بھٹو واپس آئیں، نواز شریف واپس آئے، ان پر تنقید بھی ہوئی، لیکن انہوں نے سیاست نہیں چھوڑی۔

پی ٹی آئی کیلئے موقع

سہیل وڑائچ نے کہا کہ پی ٹی آئی بڑی خوش قسمت ہے کہ پاکستان میں آج تک اتنی بڑی اپوزیشن نہیں آئی۔ اگر یہ اکثریت کے ساتھ چلتے تو پورے نظام کو چلا بھی سکتے تھے اور اس کے اندر اپنا حصہ بھی رکھ سکتے تھے۔

ان کے مطابق بینظیر بھٹو اور نواز شریف سسٹم میں شامل ہوگئے، جبکہ پی ٹی آئی کا سسٹم میں شامل نہ ہونا پاکستانی تاریخ کے خلاف ہے۔ انقلاب نہیں آئے گا، اس کی کئی مرتبہ کوشش ہوچکی ہے۔ اگر لڑائی جاری رکھی گئی تو اس سے پی ٹی آئی اور ملک دونوں کا نقصان ہوگا۔

اقتدار سے دوری نقصان دہ

سہیل وڑائچ نے کہا کہ سیاست دان اس لیے بنتا ہے کہ اقتدار میں آکر لوگوں کی تقدیر بدل سکے۔ اگر کوئی سیاست دان اقتدار سے دور سے دور ہوتا چلا جائے تو وہ اپنا بھی اور ملک کا بھی نقصان کررہا ہے۔

لانگ مارچ کا راستہ مشکل

لانگ مارچ کے حوالے سے سہیل وڑائچ نے کہا کہ اسلام آباد تک پہنچنا آسان نہیں ہوگا اور اس کیلئے کشت و خون سے گزرنا پڑے گا۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر بھی دباؤ ہے کہ اگر وہ مذاکرات قبول کرتے ہیں تو انہیں غدار یا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملا ہوا قرار دیا جائے گا، لیکن ایسی صورتحال کو لیڈر ہی حل کرتا ہے۔

بینظیر نے بھی مخالفت برداشت کی

سہیل وڑائچ نے کہا کہ بینظیر بھٹو نے جب یہ کہا کہ فوج کے خلاف بات نہیں کرنی تو انہیں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، لیکن انہیں معلوم تھا کہ اس کے بغیر ملک نہیں چل سکتا،ان کے مطابق اگر آپ کسی چیز کو پسند نہیں بھی کرتے تو بعض اوقات ملک چلانے کیلئے سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔

یوٹیوبرز پر تنقید

سہیل وڑائچ نے کہا کہ باہر بیٹھے یوٹیوبرز نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اگر انقلاب آیا تو وزیر بنیں گے اور اگر انقلاب نہیں آیا تو باہر بیٹھ کر ڈالر کمائیں گے۔ اب یہ فیصلہ پی ٹی آئی نے کرنا ہے کہ اسے یوٹیوبرز کی لائن پر چلنا ہے یا کوئی اور راستہ اختیار کرنا ہے،انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اپنے ہی لوگوں پر دباؤ ڈالتے ہیں، حکومت پر کیا دباؤ ڈالیں گے۔

یہ بھی پڑھیں :سہیل آفریدی کا لانگ مارچ کی آڑ میں منشیات کی سمگلنگ کا دھندہ، فیاض الحسن چوہان کے تہلکہ خیز انکشافات

عمران خان کی بہنوں کا ذکر

سہیل وڑائچ نے کہا کہ عمران خان کی بہنیں ان کے پیچھے ہیں اور جو لوگ باہر بیٹھے ہیں وہ ہمیشہ انہیں سپورٹ کرتی ہیں کیونکہ اس سے انہیں فائدہ ہوتا ہے،سہیل وڑائچ نے کہا کہ پاک فوج کے خلاف ہمارا آپس کا معاملہ ہے، سیاسی مسئلہ ہے یا کوئی بھی معاملہ ہے، جب آپ باہر بیٹھ کر تنقید کرتے ہیں تو ملک کمزور ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جس نے لڑائی لڑنی ہے وہ ملک کے اندر رہ کر لڑے، ملک سے باہر بیٹھ کر کیسے لڑائی لڑی جاسکتی ہے۔ جو لوگ بھگوڑے ہیں وہ بہادر کیسے ہوسکتے ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ خود باہر بیٹھ گئے جبکہ باقی لوگ قید بھگت رہے ہیں، لیکن انہیں بہادر بھگوڑے کہا جارہا ہے،سہیل وڑائچ نے کہا کہ پی ٹی آئی ان بہادر بھگوڑوں کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے اور اب پی ٹی آئی کو فیصلہ کرنا ہے کہ اسے کب درست فیصلہ لینا ہے۔

انقلاب نہیں آسکتا

انہوں نے کہا کہ یہ لوگ انقلاب لانے کی بات کرتے ہیں اور انہوں نے اس کی کوشش بھی کی، لیکن انقلاب نہیں لاسکے،سہیل وڑائچ کے مطابق پی ٹی آئی کے پاس پنجاب میں اسٹریٹ پاور نہیں بلکہ ووٹ پاور ہے۔ جب کال دی جاتی ہے تو لاہور میں کچھ نہیں ہوتا، فیصل آباد میں بھی کچھ نہیں ہوتا، صرف خیبرپختونخوا میں لوگ نکلتے ہیں۔

خیبرپختونخوا کی صورتحال

سہیل وڑائچ نے کہا کہ اگر حکومت ختم ہوگئی تو پھر کچھ بھی نہیں رہے گا۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف جنگ ہورہی ہے اور صوبائی حکومت اس معاملے میں وفاق کا ساتھ نہیں دے رہی،انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب لڑائی ہورہی ہے تو کسی کو معلوم نہیں کہ کون مارا جائے گا اور کون بچے گا، پھر اس نوبت تک کیوں جانا ہے۔

مذاکرات بہتر راستہ تھے

سہیل وڑائچ نے کہا کہ مذاکرات ایک اچھا آپشن تھا اور لانگ مارچ کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کو مذاکرات کرلینے چاہیے تھے، لانگ مارچ ایک سال بعد بھی کیا جاسکتا تھا،ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات سے حکومت بھی بچ جاتی اور قیدیوں کو بھی کچھ ریلیف مل جاتا۔ بظاہر بہادر بھگوڑوں کی شکست ہوتی لیکن پی ٹی آئی کو فائدہ ہوتا، تاہم ایسا نہیں ہونے دیا جارہا۔

9 مئی کا معاملہ

سہیل وڑائچ نے کہا کہ دنیا میں بڑے بڑے غداروں کو معافیاں ملی ہیں، لیکن پی ٹی آئی 9 مئی کو مانتی ہی نہیں۔ ان کے مطابق سوال یہ ہے کہ اگر آپ کالے کو سفید اور سفید کو کالا ہی کہیں گے تو صلح کیسے ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ایک ہی وقت میں مختلف جگہوں پر لوگ نکلیں اور حساس تنصیبات پر حملے کریں تو اسے محض اتفاق قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ان کے مطابق جب تک اس غلطی کو تسلیم نہیں کیا جائے گا، کچھ نہیں ہوگا۔

ایم کیو ایم کی مثال

سہیل وڑائچ نے ایم کیو ایم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہر چھ ماہ بعد چار یا چھ لوگوں کو نکالتی تھی اور کہتی تھی کہ یہ ہنگامہ آرائی میں ملوث تھے، تاکہ جو گناہ ان پر لگ رہے ہیں وہ ان لوگوں پر ڈال دیے جائیں،ان کے مطابق پی ٹی آئی کو بھی ایسے لوگوں سے لاتعلقی اختیار کرنی چاہیے تھی۔ اگر ایسا واقعہ ہوگیا تھا تو لاتعلقی کرکے باقی پارٹی کو بچایا جاسکتا تھا۔

انتشار سے تبدیلی ممکن نہیں

سہیل وڑائچ نے کہا کہ زرداری اور نواز شریف کے خلاف کیسز جھوٹے ثابت ہوئے، عمران خان کے خلاف بھی کیسز جھوٹے ثابت ہوسکتے ہیں، لیکن انتشار سے تبدیلی نہیں آئے گی اور نہ ہی یہ ممکن ہے۔

قومی حکومت کا امکان

سہیل وڑائچ نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ ملک اگلے انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے، تاہم انتخابات کب ہوں گے، اس کا انہیں علم نہیں۔ ان کے مطابق اس سے پہلے قومی حکومت بنے گی جو طویل عرصے تک چلے گی،انہوں نے کہا کہ قومی حکومت میں سیاسی اور معاشی استحکام لانے کے بعد انتخابات کی طرف جایا جائے گا، تاہم اس قومی حکومت کا سربراہ کون ہوگا، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

اوورسیز پاکستانیوں کا کردار

اوورسیز پاکستانیوں کے حوالے سے سہیل وڑائچ نے کہا کہ تارکین وطن پاکستانی ہمارا اثاثہ ہیں، لیکن جو لوگ یہ توقع کرتے ہیں کہ پاکستان سے یورپ کی آٹھ گھنٹے کی فلائٹ کی طرح پاکستان کی ترقی بھی آٹھ گھنٹے میں ہوجائے گی، ایسا نہیں ہوسکتا،ان کے مطابق سیاست پاکستان کی ہے اور اس کا فیصلہ بھی پاکستان کے اندر ہی ہونا ہے۔ تارکین وطن پاکستان کی سیاست کا فیصلہ نہیں کرسکتے۔

مقبولیت کے ساتھ قبولیت ضروری

سہیل وڑائچ نے کہا کہ عمران خان کی مقبولیت اپنی جگہ، لیکن اس کے ساتھ قبولیت بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق جب تک پی ٹی آئی کے اندر کوئی ایسا شخص نہیں آتا جو اسے مصالحت کی طرف لے جائے، اس وقت تک معاملات حل نہیں ہوسکتے۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج کی جانب سے بظاہر کوئی سیاسی بیان نہیں دیا جارہا، تاہم موجودہ صورتحال میں سیاسی قوتوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ملک کو آگے لے جانے کیلئے کس راستے کا انتخاب کرنا ہے۔

editor

Related Articles