بالی ووڈ اداکارہ کترینہ کیف نے خود کو قبول کرنے اور دوسروں کی رائے کو اپنی ذات پر حاوی نہ ہونے دینے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک حالیہ تقریب میں شرکت کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے وزن اور ظاہری خدوخال کو لے کر تبصرے کیے گئے تھے۔
لندن میں اپنے بیوٹی برانڈ کی ایک تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے 43 سالہ اداکارہ نے آن لائن تنقید کا براہ راست ذکر نہیں کیا، تاہم ان کی گفتگو کا مرکزی پیغام خود اعتمادی اور اپنی ذات کو قبول کرنا تھا۔
کترینہ کیف کا کہنا تھا کہ زندگی میں ایسے مواقع آتے ہیں جب لوگ آپ کی تعریف کرتے ہیں، لیکن کبھی کبھی انسان کو خود اپنا حوصلہ بننا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق، ہر وقت دوسروں کی تعریف کا انتظار کرنے کے بجائے اپنی ذات پر بھروسا کرنا ضروری ہے۔
اداکارہ نے اپنی بات کو اپنے بیوٹی برانڈ کے نعرے’اِٹس اوکے ٹو بی یو‘سے جوڑا، جس کا مطلب ہے کہ انسان کو اپنی اصل شخصیت کے ساتھ مخلص رہنا اور خود کو قبول کرنا چاہیے۔
کترینہ کے مطابق زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ کبھی انسان خود کو بہترین حالت میں محسوس کرتا ہے، جبکہ کبھی ایسا وقت بھی آتا ہے جب اسے لگتا ہے کہ وہ کچھ بھی ٹھیک نہیں کر پا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ زندگی کے ان تمام مراحل کو قبول کرنا چاہیے اور خود پر غیر ضروری دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انسان کو ہر معاملے کو ضرورت سے زیادہ سنجیدگی سے لینے کے بجائے اپنے ساتھ نرمی برتنی چاہیے اور بدلتے حالات کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ کترینہ کیف امبانی خاندان کی رہائش گاہ پر منعقدہ ایک تقریب میں شریک ہوئی تھیں، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے وزن اور ظاہری خدوخال پر تبصرے شروع ہوگئے تھے۔ ناقدین نے اس بات کو بھی نظر انداز کیا کہ اداکارہ نے نومبر 2025 میں اپنے بیٹے ویہان کو جنم دیا تھا اور اس وقت ان کی زچگی کو ایک سال بھی مکمل نہیں ہوا تھا۔
دوسری جانب متعدد سوشل میڈیا صارفین نے کترینہ کیف کی حمایت کرتے ہوئے ان پر ہونے والی تنقید پر اعتراض کیا۔ فلمی صنعت سے تعلق رکھنے والی شخصیات سلمان خان، ریتک روشن، سمیرہ ریڈی اور سندریا رجنی کانت بھی اداکارہ کی حمایت کرنے والوں میں شامل تھیں۔
کترینہ کا پیغام ایک بار پھر اس بحث کو سامنے لاتا ہے کہ کسی شخص کی ظاہری شکل پر تبصرہ کرنے کے بجائے اس کی عزت، خود اعتمادی اور ذاتی زندگی کا احترام کرنا کتنا اہم ہے۔