پاکستان میں تیل کی مقامی پیداوار بڑھانے کی تیاری، معاہدے طے

پاکستان میں تیل کی مقامی پیداوار بڑھانے کی تیاری، معاہدے طے

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کو بتایا گیا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل اور تیار پیٹرولیم مصنوعات، جہاز رانی، انشورنس اور ریفائننگ کی صلاحیت سے متعلق غیر معمولی بحران کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی بین الاقوامی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ شپنگ اور انشورنس کے اخراجات میں اضافے، طویل ترسیلی راستوں اور ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتوں کے فرق میں غیر معمولی اضافے نے عالمی سطح پر تیل کی لاگت بڑھا دی ہے۔

قائمہ کمیٹی کا اجلاس 8 اکتوبر کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں چیئرمین سید مصطفیٰ محمود کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں پیٹرول اور گیس کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار، پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) اور آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کی کارکردگی، ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن، پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ اور گیس سیکٹر کے مالی معاملات کا جائزہ لیا گیا۔

وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے اثرات سے ملکی صارفین کو بچانے اور پیٹرولیم مصنوعات کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین کیسے ہوتا ہے؟

اجلاس میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے وضاحت کی کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا موجودہ طریقہ کار ایک شفاف فارمولے پر مبنی ہے جو اوگرا کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ اس فارمولے میں عالمی منڈی کی قیمتوں اور پی ایس او سے متعلقہ اعدادوشمار کو شامل کیا جاتا ہے۔

اوگرا کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی بنیادی قیمت کا تعین سات روزہ متحرک اوسط، متعلقہ شرحِ تبادلہ اور دیگر مقررہ اجزا کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ کمیٹی نے زور دیا کہ صارفین کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں شامل ٹیکسوں، لیویز، نقل و حمل کے اخراجات اور عالمی منڈی کے نرخوں کے بارے میں زیادہ واضح معلومات فراہم کی جائیں، تاکہ قیمتوں کے تعین کے عمل کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

چار ریفائنریوں کے اپ گریڈیشن معاہدے مکمل

قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک کی پانچ میں سے چار ریفائنریوں نے اپ گریڈیشن کے معاہدے کرلیے ہیں، جبکہ پانچویں ریفائنری کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ حکومت ریفائنریوں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار بڑھائی جاسکے اور درآمد شدہ تیار مصنوعات پر انحصار کم کیا جاسکے۔

کمیٹی نے زیادہ سلفر والی پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار اور ان کے ممکنہ ماحولیاتی اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا، بالخصوص آنے والے اسموگ اور سردیوں کے موسم کے تناظر میں۔

پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے ڈیجیٹل نظام

اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے بتایا کہ حکومت غیر قانونی تجارت روکنے کے لیے سرحدی نگرانی مزید مؤثر بنانے اور دیگر اقدامات پر کام کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:موٹروے تک سفر آسان بنانے کی تیاری، منصوبے 31 دسمبر تک مکمل کرنے کا حکم

حکام کے مطابق پیٹرولیم سپلائی چین کو ابتدا سے آخری مرحلے تک ڈیجیٹل نظام سے منسلک کرنے سے نظام میں داخل ہونے والی اور فروخت ہونے والی مصنوعات کی مقدار کا موازنہ ممکن ہوگا۔ اس طرح سپلائی چین میں کسی بھی مرحلے پر مقدار کے فرق اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی میں مدد مل سکے گی۔

گیس کمپنیوں کے مالی واجبات اور گردشی قرضے کا معاملہ

قائمہ کمیٹی نے گیس سیکٹر میں قیمتوں کے تعین، آمدن کی ضروریات اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے گردشی قرضے سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا۔

اوگرا نے کمیٹی کو مقررہ قیمتوں، صارفین سے وصول کی جانے والی قیمتوں اور کمپنیوں کی آمدنی کی ضروریات کے درمیان فرق سے آگاہ کیا۔ حکام کے مطابق دونوں کمپنیوں کے بقایا جات کے اعدادوشمار میں مطابقت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

کمیٹی نے ہدایت کی کہ ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی ایل کی مالی واجبات اور آمدن میں کمی سے متعلق درست اور تازہ ترین اعدادوشمار اگلے اجلاس میں پیش کیے جائیں۔

یونیورسل گیس ڈسٹری بیوشن کمپنی کا معاملہ اگلے اجلاس میں زیر غور آئے گا

کمیٹی نے یونیورسل گیس ڈسٹری بیوشن کمپنی (یو جی ڈی سی) اور نئی پالیسی کے تحت گیس کی تجارتی فروخت سے متعلق معاملہ آئندہ اجلاس کے خصوصی ایجنڈے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔

کمیٹی نے ہدایت کی کہ یو جی ڈی سی کے نمائندے کو اجلاس میں مدعو کیا جائے تاکہ کمپنی کی منظوری، گیس کی خریداری اور فروخت کے طریقہ کار، صارفین، قیمتوں، نقل و حمل کے انتظامات، ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی ایل کے بنیادی ڈھانچے کے استعمال اور متعلقہ ضابطہ جاتی تقاضوں کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی جاسکیں۔

کسانوں کو نسبتاً سستا ایندھن فراہم کرنے کی تجویز

اجلاس میں کسانوں کو لائٹ ڈیزل آئل (ایل ڈی او) کے ذریعے نسبتاً کم قیمت ایندھن فراہم کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے اس معاملے کا مزید جائزہ لینے کی ہدایت کی، بالخصوص زرعی شعبے کو ممکنہ فائدے اور ایندھن کے غلط استعمال، غیر قانونی منتقلی اور سرکاری آمدن کے نقصان کو روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے۔

کمیٹی نے سیکریٹری پیٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی کہ اس تجویز پر ضروری تحقیق کرکے آئندہ اجلاس میں تفصیلات پیش کی جائیں۔

پیٹرولیم لیوی کی حیثیت اور صارفین پر اثرات زیر بحث

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر بھی گفتگو ہوئی۔ اجلاس میں وضاحت کی گئی کہ پیٹرولیم لیوی کو نان ٹیکس ریونیو شمار کیا جاتا ہے اور یہ کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسوں سے الگ ہے، تاہم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس کا نمایاں حصہ ہوتا ہے۔

کمیٹی نے نوٹ کیا کہ پیٹرولیم لیوی ابتدا میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات کو جذب کرنے کے لیے استعمال ہوتی تھی، لیکن بعد میں یہ حکومت کی آمدن کا باقاعدہ ذریعہ بن گئی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ارکان کو لیوی کی بنیاد اور جواز کے بارے میں سوال اٹھانے کا حق حاصل ہے اور اس کے صارفین پر اثرات کے حوالے سے زیادہ وضاحت ضروری ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles