متحدہ عرب امارات کی وفاقی سپریم کورٹ نے منشیات کے استعمال کے مقدمے میں ایک غیر ملکی رہائشی کی ملک بدری کا حکم منسوخ کر دیا ہے۔
عدالت نے ابتدائی عدالت کی جانب سے عائد کیا گیا 30 ہزار درہم جرمانہ برقرار رکھا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مقدمہ عجمان سے متعلق تھا۔ ابتدائی عدالت نے متعلقہ شخص کو قصوروار قرار دیتے ہوئے اس پر مالی جرمانہ عائد کیا تھا۔ تاہم اپیل عدالت نے بعد میں جرمانے کو ملک بدری کے حکم سے تبدیل کر دیا تھا۔
متعلقہ رہائشی نے اپیل عدالت کے فیصلے کو وفاقی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ رپورٹ کے مطابق وہ متحدہ عرب امارات میں پیدا ہوا تھا اور اپنے خاندان کے ساتھ وہیں مقیم تھا۔ اس کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اپیل عدالت نے سزا میں ایسی تبدیلی کی جو قانونی طور پر درست نہیں تھی۔
ملک بدری کا حکم منسوخ
دفاعی وکیل عبداللہ بن حاتم نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ اپیل صرف ملزم کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ ایسی صورت میں اپیل عدالت ملزم کی سزا کو مزید سخت نہیں بنا سکتی تھی۔
وکیل کے مطابق ابتدائی عدالت نے 30 ہزار درہم جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ اپیل عدالت نے اس جرمانے کو ختم کرکے ملک بدری کا حکم جاری کر دیا۔ دفاع کا مؤقف تھا کہ اس تبدیلی سے ملزم کی قانونی پوزیشن پہلے کے مقابلے میں خراب ہوئی۔
وفاقی سپریم کورٹ نے مقدمے کا جائزہ لینے کے بعد ملک بدری کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے ابتدائی عدالت کی جانب سے عائد کردہ 30 ہزار درہم جرمانہ بحال کر دیا۔ اس طرح متعلقہ رہائشی کے خلاف ملک بدری کا حکم ختم ہو گیا جبکہ جرمانے کی سزا برقرار رہی۔
عدالت کی قانونی وضاحت
وفاقی سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ متعلقہ قانونی دفعہ کے تحت بعض حالات میں قید کی سزا کے متبادل کے طور پر ملک بدری کا حکم دیا جا سکتا ہے۔ تاہم عدالت کے مطابق اسی قانونی بنیاد پر مالی جرمانے کو ملک بدری میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ اپیل عدالت نے 30 ہزار درہم جرمانے کو ملک بدری سے بدل کر ملزم کی قانونی پوزیشن خراب کی۔ اس مقدمے میں سزا کی یہ تبدیلی درست نہیں تھی۔
عدالت نے اپیل جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے ملک بدری کا حکم منسوخ کر دیا۔ اس کے ساتھ ابتدائی عدالت کا جرمانہ بحال کیا گیا جبکہ سزا کے خلاف دیگر اعتراضات مسترد کر دیے گئے۔
بریت نہیں ہوئی
عدالت کے فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ متعلقہ شخص کو مقدمے سے بری کر دیا گیا ہے۔ نہ ہی اس فیصلے سے منشیات کے استعمال سے متعلق الزامات ختم ہوئے ہیں۔
فیصلہ صرف سزا میں تبدیلی کے قانونی پہلو تک محدود ہے۔ عدالت نے ملک بدری کے حکم کو اس لیے منسوخ کیا کیونکہ اپیل عدالت نے جرمانے کو ملک بدری میں تبدیل کرکے قانونی حدود سے تجاوز کیا تھا۔
غیر ملکی رہائشیوں کے لیے اہم پہلو
یہ فیصلہ متحدہ عرب امارات میں مقیم غیر ملکی افراد کے لیے ملک بدری اور اپیل کے قانونی دائرہ کار سے متعلق اہمیت رکھتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اپیل کے دوران سزا میں تبدیلی کرتے وقت عدالتوں کو متعلقہ قانونی دفعات اور اپنے اختیارات کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے۔
تاہم اس فیصلے کو تمام غیر ملکی رہائشیوں کے لیے ملک بدری سے عمومی استثنا نہیں سمجھا جا سکتا۔ ملک بدری کا اطلاق جرم کی نوعیت، متعلقہ قانون، عدالتی فیصلے اور مخصوص قانونی استثناؤں پر منحصر رہتا ہے۔
اس مقدمے میں سپریم کورٹ نے ملک بدری کا حکم ختم کیا ہے لیکن مالی جرمانہ برقرار رکھا ہے۔ چنانچہ اس فیصلے کو سزا کی قانونی نوعیت اور اپیل کے دائرہ کار سے متعلق مخصوص عدالتی فیصلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔