اہم یورپی ملک میں پاکستانیوں کیلئے کاروبار کے نئے دورازے کھل گئے

اہم یورپی ملک میں پاکستانیوں کیلئے کاروبار کے نئے دورازے کھل گئے

پاکستان اور رومانیہ کے درمیان زراعت اور ڈیری کے شعبوں میں کاروباری تعاون بڑھانے کے امکانات سامنے آگئے ہیں۔

 پاکستان رومانیہ بزنس کونسل کے زیر اہتمام پاکستانی تجارتی وفد نے رومانیہ کے دارالحکومت بخارسٹ کے قریب ملک کے سب سے بڑے دودھ پیدا کرنے والے فارم کا دورہ کیا۔
اس موقع پر سرمایہ کاری، تربیت یافتہ افرادی قوت اور جدید زرعی طریقوں کے شعبوں میں تعاون پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

پاکستان رومانیہ بزنس کونسل کے مطابق وفد کی قیادت عاطف فاروقی نے کی۔ وہ وفد کے سربراہ ہونے کے ساتھ سندھ میں رومانیہ کے نامزد اعزازی قونصل بھی ہیں۔
دورے کا مقصد رومانیہ کے ڈیری شعبے میں استعمال ہونے والے جدید طریقوں کا جائزہ لینا اور پاکستانی کاروباری اداروں کے لیے شراکت داری کے امکانات تلاش کرنا تھا۔

7 ہزار ہیکٹر رقبے پر قائم فارم

دورے کے دوران پاکستانی وفد کو فارم کے انتظامی ڈھانچے، جدید زرعی طریقوں، مویشیوں کی افزائش اور دودھ کی پیداوار کے نظام پر بریفنگ دی گئی۔ حکام کے مطابق یہ فارم تقریباً 7 ہزار ہیکٹر رقبے پر قائم ہے اور ایک خاندانی کاروبار کے طور پر نسل در نسل چل رہا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :ملک میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں بڑا اضافہ ہو گیا

فارم میں مویشیوں کی خوراک کے لیے درکار اناج اور سائیلج خود کاشت کیا جاتا ہے۔ ضرورت سے زائد زرعی پیداوار مقامی منڈی میں فروخت کر دی جاتی ہے۔ اس طریقۂ کار کے ذریعے فارم اپنی خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ اضافی پیداوار سے بھی فائدہ اٹھاتا ہے۔

فارم میں دودھ دینے والی ہولسٹین نسل کی تقریباً 7 ہزار گائیں موجود ہیں۔ یہ نسل زیادہ دودھ دینے والی گایوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ فارم میں گوشت کی پیداوار کے لیے تیزی سے بڑھنے والی مویشیوں کی نسل بھی پالی جاتی ہے۔

جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

فارم کے انتظامی اور پیداواری امور جدید کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے چلائے جاتے ہیں۔ اس نظام سے مویشیوں کی نگہداشت، خوراک، دودھ کی پیداوار اور دیگر معاملات کی نگرانی کی جاتی ہے۔

پاکستانی وفد کو فارم کے انتظامی طریقوں اور پیداواری نظام سے آگاہ کیا گیا۔ دورے کے دوران بڑے پیمانے پر ڈیری فارمنگ کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی اور زرعی وسائل کے انتظام کا بھی جائزہ لیا گیا۔

رومانیہ کے اس فارم میں زرعی پیداوار اور مویشیوں کی خوراک کو ایک دوسرے سے منسلک رکھا گیا ہے۔ اناج اور سائیلج کی اپنی کاشت سے فارم کو مویشیوں کی خوراک فراہم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ اضافی زرعی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کی جاتی ہے۔

روزانہ دودھ کی ترسیل

فارم کی انتظامیہ نے پاکستانی وفد کو بتایا کہ وہاں سے روزانہ مخصوص ٹینکروں کے ذریعے خام دودھ رومانیہ کے شہر براسوو میں قائم ایک بڑی ڈیری فیکٹری کو فراہم کیا جاتا ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری پر حاصل منافع کی بیرون ممالک منتقلی میں بڑا اضافہ

انتظامیہ کے مطابق فارم پر ایک بڑے بائیو گیس پلانٹ کی تنصیب کا منصوبہ بھی جاری ہے۔ اس منصوبے کے جلد فعال ہونے کی توقع ہے۔

پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے امکانات

دورے کے دوران پاکستانی کاروباری اداروں کے لیے ممکنہ تعاون کے مختلف شعبوں کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں رومانیہ کے ڈیری اور زرعی شعبوں کے لیے پیشہ ورانہ تربیت یافتہ افرادی قوت کی فراہمی بھی شامل ہے۔

editor

Related Articles